حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 47 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 47

مصباح ریوہ 47 ام دسمبر ۱۹۹۳ء میں ریلے کیا گیا۔1991ء کے جلسہ قادیان کے موقع سرگر میوں اور تبلیغی لٹریچر کی تقسیم کی افراط کا نظارہ پر حضور پر نور نے بشری کو یاد فرمایا۔اور جب بشری کرنے کے علاوہ یہ بھی محسوس کیا کہ جب وہ حضرت کو دیکھا تو فرمایا تم بالکل ویسی ہو جیسی سات سال عیسی علیہ السلام کی تعریف میں غلو کہتے ہیں تو پہلے تھیں اور لجنہ لاہور کو ارشاد فرمایا کہ آپ بھی سیرت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں حضرت مسیح کے جلسے کریں اور حوری کو بلائیں۔یہ بہت اچھی تقریر کی برتری ثابت کرتے ہیں۔جس کا مسلمان خواتین کے کرتی ہیں مگر ہائی ائیر بلائیں۔چنانچہ حضور کے ارشاد پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔کیونکہ کم علمی کے باعث ایسے کے مطابق لیہ لاہور نے انتظام کیا اور بشری کو کئی دلائل نہیں ہوتے کہ حکمت سے جواب دے کر خیرالوسیل جلسوں میں سیرت کے موضوعات پر تقاریر کا موقع ملا افضل الا نبیاد کی کل نبیوں کا سردار ہونے کی عظمت جو بے حد پسند کی گئیں۔بشری کو ینگ بینہ کو آگے لانے ثابت کر سکیں۔جب رسول سے ابلتا ہوا دل افسردہ کا بہت شوق تھا میں کے لئے وہ تربیتی کو ستر مرتب ہو جاتا اور نہاں خانہ دل میں یہ عزم جوان ہوتا رہا کہ کہ کے کلاسیں لگاتی اور خود پڑھاتی۔دیگر بزرگوں کو خدا تعالی موقع عطا فرمائے تو ایسا لٹریچر بکثرت تیار کیا بھی لیکچر کی دعوت دیتی۔چنانچہ آخری دن تک اس جائے جو کلمانوں کو اور غیر مسلموں کو اسی خیر البشر کی کی دعوت الی اللہ کی کلاسیں ہماری تھیں۔وہ اس گیراتر بے مثال عظمتوں کا قائل کر دے۔خواہشات دُعاؤں طریق پر پڑھاتی کہ لڑکیاں گرویدہ ہو جاتیں۔وہ چاہتی میں ڈھلتی رہیں اور دعائیں در قبولیت پر دستک دیتی تھی کہ سب احمدی خواتین اپنی سب صلاحیتیں دین کی رہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ایسے سامان ترقی میں جھونک دیں چنانچہ بہت سی خواتین جواب پیدا فرما دیئے جو اس تمنا کو عملی جامہ پہنانے کا سبب سرگرم عہدیدار ہیں۔اس کی تیارہ کہ وہ ہیں جنہیں کچھ بنے۔۱۹۸۷ ء کے اوائل میں ربوہ میں لجنہ کی ایک میٹنگ عرصہ انگلی سے پکڑ کر چلانے کے بعد جب وہ خود چلنا میں جیب حاضر نمائندگان سے صد سالہ جوبلی منانے کے سیکھ لیتیں تو بشری بہت خوشی اور طمانیت محسوس لئے پروگرام مانگا گیا تو بشری نے اللہ تعالیٰ پر توکل کہتی۔کام کرنے میں بعض اوقات کسی کی باتیں بھی کرتے ہوئے بجھنہ کراچی کی طرف سے سو کتابیں شائع جنتا پڑتی ہیں ناگوار خاطر باتوں پر نہ صرف خود صبر کرنے کا پروگرام لکھوا دیا۔اب اُس کے منصوبہ سیانے کہتی بلکہ دوسروں کو بھی تلقین کرتی۔رقیق القلب دل و دماغ کی اڑانیں ہفت افلاک پر تھیں واپس تھی اس لئے آنسو تو آجاتے مگر زبان سے کچھ نہ کہتی آئی تو تنشانے پر عزم چیزے کے ساتھ اپنے پروگرام ہمارے شعیر اشاعت میں بعض مراحل بڑے دشوار گزار لکھواتے اور مختلف طریق پر روبہ عمل کا بنے پر دیر تک ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ کہتی تعدا تعالی کے کام میں کبھی نہیں گفتگو کرتی۔یوسف کو خریدنا تھا اور دامن نہیں سوت رکھتے۔زیادہ دُعاؤں کے لئے ابتلا آتے ہیں۔کی انٹی بھی نہ تھی۔بشری باٹنی میں ایم ایس سی تھی ایران کے عرصہ قیام میں سیحی مشنریوں کی اور مضمون نگاری کا صرف اس حلقہ تک تجربہ تھا کہ اجتماعات