حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 45
مصباح ربوہ دیدہ زیب بنا لیتی۔اس کی خوش قسمتی تھی کہ اُس مبر ١٩٩٣ ء غصہ آتا۔پلیٹ میں کبھی کھانا نہ بچاتی اور ہر قسم وقت ہی نہ رہا صرف کاغذ پر نوٹس لے کر بہت کی سادہ سے سادہ چیز رغبت سے اللہ تعالی کا شکر اچھی تقریر کرتی۔اکثر ہم لوگ علاقہ اور سامعات ادا کر کے کھاتی۔مچھلی اور بریانی خاص طور پر انڈیز کا معیار دیکھے کہ موضوع منتخب کر تے مین جلسوں پکاتی تھی۔اُس کا گھر ہمیشہ صاف ستھرا ہوتا۔لباس میں اکٹھے جاتے راستے میں موضوع یہی رہتا۔اگر بہت نفیس پہنتی۔جن کا قیمتی لباس پہنے کو اصراف یکی ساتھ نہ بھاتی تو بھی ہم سامعات کے تاثرات سمجھتی۔عام سے کپڑے کو سجا کی بیلیں وغیرہ ٹکا کر اور تقریر کی۔ایسے پہلوؤں پر گفتگو کرتے جن کو زیادہ موثر بنایا جا سکتا تھا۔کہیں کا غذ پر پوائنٹ پیر پر لباس سمجھا تھا۔چار گنز کے چنے ہوئے بیل کے لکھتی رہتی جو بعد میں اُسے بتاتی تو وہ کبھی برا نہ ہوئے دوپٹے سلیقے سے اور حتی۔اسی طرح بچوں کو مانتی۔جلسہ سیرت النبی کے پروگرام میں بیشری کا نام بھی موقع کی مناسبت سے تیار کرتی۔اُس کے گھر میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسے کی کامیابی کی نوید بن بیانا۔بچی بھی دھجیاں بھی ہے کار نہیں جاتی تھیں۔عام جلسے کرنے کا شوق بھی اُسی کا پیارا کیا ہوا تھا۔پھر استعمال کی معمولی ٹوکریوں پر جھالریں لگا کہ سجا لیتی۔جیسوں پر غیرانہ جماعت بہنوں کی آمد سے دعوت الی الله ہر قسم کے بیگ خود تیار کرتی تھی۔جن کو دیکھے یقین کا ایسا سلسلہ چل نکلا جس کا چسکا عام ہوتا گیا۔بشری نہیں آتا تھا کہ گھر میں تیار کئے گئے ہیں کی طبیعت کشتی بھی شراب ہوئی جلسہ سیرت میں بلاوے اجلاس ، سالانہ احتجا جاتے ، جیسے خاص طور کو حتی المقدور نہ ٹالتی۔اکثر اوقات دوا کھا کھا کے پر جلسہ ہائے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بہتری جلسوں میں جاتی۔اُس کے موضوعات بھی بڑے منفرد کو خاص دلچسپی تھی۔تقریم کی تمیمیت بچپن سے شروع ہوتے ایسا سماں بندھ بھاتا کہ عورتوں کی آنکھوں ہوئی تھی کئی مرتبہ ناصرات اور لجنہ کی نمائندگی میں دیوہ سے آنسو رواں ہو جاتے پھر وہ تقریر کو خاص میں اور کراچی میں تقریری مقابلوں میں اول انعامات نقطہ عروج پر پہنچا کر رخ عہد حاضر کی طرف موڑتی۔لئے۔اُس وقت کی سیکرٹری جنرل محترمہ جمیلہ عرفانی صاحبہ اور موجودہ دور کی قباحتوں سے بچ کو اسوہ محمدی نے تقریر کا فن سکھانے میں خصوصی دلچسپی لی۔اور اپنانے کا درس دیتی۔حضرت امام وقت کے اشعار بڑی محترم مولانا عبد المالک تھا تصاحب کے تقریبہ کے سٹائل روانی سے مناسب جگہ پر اچھے انداز میں پڑھتی خاص سے غیر شعوری تاثر کے ساتھ بہتری کا اپنا انداز تقریر طور پر یہ بند گہرا تاثر چھوڑتا مرتب ہوا۔اُس کو قدرت نے خوشگوار بلند آوازدی اس رحمت عالم ابر کرم کے یہ کیسے متوالے ہیں تھی اردو کا تلفظ اچھا تھا سب سے بڑی بات اس وہ آگ بجھانے آیا تھا۔یہ آگ لگانے والے ہیں کے اندر موجیں مارتا ہوا سر شار جذبہ تھا۔پہلے لکھ وہ والی تھا مسکینوں کا ، بیواؤں اور یتیموں کا کہ مضمون پڑھا کرتی تھی۔پھر اس کے پاس لکھنے کا یہ ماؤں بہنوں کے سر کی چادر کو سہلانے والے ہیں