حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 44
1 1 1 1 1 مصباح ربوه دسمبر ۱۹۹۳ء موضوعات سے یکسر مختلف تھے اور دوران گفتگو سامنے نظر آجانا تو میں اُس سے لپٹ جاتی پھر نہ بشری کی سلائی مشین چلنے کی آواز بھی آتی رہتی یا چھوڑتی۔وہ کتنا پیارا ہوگا جس نے حضرت رسول کریم کسی دوسرے کام میں مصروف ہوتی کیونکہ ہم کو گھر صلی اللہ علیہ وسلم جیسی پیاری ہی تھی تخلیق کی۔وہ کے روز مرہ کے کاموں سے فرصت پا کہ بلکہ کھینچ تان دعا کرتی کہ بخدا تعالیٰ اسے اس جماعت نہیں شامل کے فرصت نکال کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتا ہونا کرے جسے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا صبح شام دیدار کرایا جائے گا۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اس ینٹری ہے بعد ملتی تھی خود سارا کام کرتی۔1 بشری خدا کی رضا کے حصول کے لئے تیمی کی یہ اور سب دُعائیں قبول فرمائے۔رہتی اور ایسی راہیں تلاش کرتی جس سے اللہ پاک بشری کے گھر جاؤ تو ہر طرف سلیقہ بولتا ہوا کی خوشنودی کی کوئی سبیل نکل آئے۔وہ ہر بات کا دکھائی دیتا۔پودوں کا بے حد شوق تھا۔بیٹریوں رخ خدا تعالیٰ کی طرف موڑ دیتی۔بہت دعائیں کرتی۔میں دو منزل پہلے سے گملوں کی قطار بشری کے گھر اللہ پاک پر اُسے ایسا تو کل تھا کہ کبھی گھیراتی نہیں کے قریب کا پتہ بتا دیتی۔ایک دفعہ ایک تھی۔جب اُس کے ابا جان کو دل کا دورہ ہوا تو اس خاتون نے گھنٹی ہوا کہ دروازہ کھلنے پر کہا " اگر کی بے چینی اور بے قراری کا عالم دیدنی تھا مگر وہ آپ پسند کریں تو میں اندر سے آپ کا گھر دیکھنا اللہ پاک کی حمد وثنا کے ساتھ یہ دُعا کرتی یا پاک چاہتی ہوں۔میں کا گھر یا ہر سے اتنا خوش نما ہے پروردگار جماعت کو ایسے وجودوں سے مالا مال رکھ اندر سے کیسا سجا سجا ہو گا۔میرے ابا جان درویش تھے اور اس کے ابا جان در دیش صفت اور میرے آیا جان کے ہم نام ہونے کی وجہ کفایت شعاری کی عادت تھی۔بے کار چیزوں سے سے بھی مجھے ان سے انتہائی عقیدت ہے۔توکل علی کار آمد چیزیں بنانے کا ہنر رکھتی تھی۔سندھی طرف اللہ کا درس اُسے گھر کی تمہ ہمیت سے ہا تھا۔خدا تعالٰی کی رلیاں بڑی مہارت سے بنا لیتی۔چھوٹے چھوٹے اُس کی غیر معمولی طور پر مدد کرتا ہے وہ تحدیث نعمت چوکور کپڑے کاٹ کاٹ کہ ہاتھوں پر گئے پڑ جاتے۔کے طور پر کبھی بیان کرتی مگر زیادہ تر اُسے ایسے اسی طرح پرانے کھیلوں پر غلاف چڑھا کہ دوبارہ واقعات کا دہرانا پسند نہ تھا۔اُس کی غیرت اور کارہ آمد بنا لیتی۔سلائی کڑھائی بڑے سلیقے سے کرتی۔حجاب کی وجہ سے نہیں بھی اُس پیار بھرے سلوک کپڑوں پر پینٹ بھی خوبصورتی سے کیا اُسے نت کا ذکر نہیں کرتی۔اتنا لکھنا کافی ہوگا کہ وہ اپنی نئے ڈیزائن سوجھتے اور شدید خواہش رکھتی تھی ضرورت اور اختیارچ صرف اور صرف اپنے اللہ تعالیٰ کہ سب احمدی لڑکیاں ہر قسم کا کام سیکھیں۔کھانا سے بیان کرتی اور وہ معجزانہ طریق پر اس کی مدد کم لاگت میں کئی قسم کا تیار کر لیتی۔کھانا کھلانے کا کرتا کبھی کبھی نجیب انداز میں کہنی کاش اللہ تعالٰی شوق کھانے سے زیادہ تھا۔رزق ضائع کرنے پر بہت