حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 43 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 43

مصباح ریوه ۴۳ 43 ومبر ۱۹۹۳ء ۱۹ سال)۔سیف الاسلام طاہر (بعمر ساڑھے سولہ سال شدید احساس کے ساتھ ایک ڈیڑھ سال پہلے اس اور عطیۃ الحبیب طوبی (بعمر ساڑھے نو سال) سے نے ایک لیے ماں کی بیٹی کی شادی کا سامان تیار کیا اُن کا ٹھنڈا سایہ اُن کی ماں بچھڑ گئی۔اس دلدوز نخود اپنے گھر سے بہت سی ضروری چیز ہیں لیں اور سانے سے بہت آنکھیں اشکبار ہوئیں۔جس نے کچھ سہیلیوں کو تحریک کی۔اس طرح بہت اچھا ضرورت شنا پہلے تو یقین نہیں کیا پھر اُس کے آخری دیدار کا سامان بہتا ہو گیا۔بڑی خوش تھی کہتی تھی پتہ کے لئے لیکے کھڑے ہونے کو جگہ نہ تھی تمرینا موکشی نہیں طوبی کی شادی کے وقت میں ہوں گی یا نہیں سکیوں کیا ہوں اور آنسوؤں کے نذرانے کے اللہ کرے کوئی اسی طرح میری طولی کا کام بھی سوا سب نے بے حد مہر کا نمونہ دکھایا۔احمد یہ حالی میں کرا دے۔جنازے کے وقت بھی بے مثال حاضری تھی اور ہر ایک اسی طرح کے حسب سلوک ہے وہ کراچی میں مقبول ترین کی زبان پر تھا۔وہ کتنی اچھی تھی۔ہر ایک کو محسوس خاتون تھی۔احمد یہ مال کا عملہ حتی کہ خاکم دب اور باہر ہو رہا تھا کہ اُس کے ساتھ بشریٰ کا سب سے زیادہ بریانی بیچنے والا سب اُس کی بے حد عزت کرتے اور تعلق تھا بیشتر کی اس قدر پیار سے بات کرنے کی عادی وہ سب کا حال چال پوچھتی رہتی۔اس کا حلقہ احباب تھی کہ اپنے پرائے کا دل موہ لیتی۔اس کا دل پیار کا بہت وسیع تھا۔چھوٹے چھوٹے پیار بھرے تھے خزانہ تھا۔خالہ جان ، آپا جان ، میری چاند، میری دینے کے لئے اُس کے پاس بہت کچھ ہوتا منکسر المزاج جان کہہ کر مخاطب کرتی ہر ایک کی تکریم کرتی۔سب اور پیچھے رہ کر کام کرنے والی تھی۔جتنا کام وہ بچوں کو اپنے بچے ، سب لڑکیوں کو اپنا ذمہ داری اور اکیلی ذات کہتی تھی اُس کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔سب بڑوں کو قابل احترام سمجھتی۔اُس کا یہی جادو تھا۔گہ یہ کام نام کے لئے نہیں ہوتا تھا۔وہ پیدا ہی کہ وہ سب کو کام پہ آمادہ کر لیتی۔اور صلاحیتوں کو کام کے لئے ہوئی تھی وہ تنظیم سپہ نثار ہوتی رہی اجا گر کر کے ، بڑھاوا دے کر، خود مدد کر کے دین اور بالآخری جان بھی دے دی۔وہ راتوں کو جاگ جاگ کی خدمت کی راہوں پر ڈال دیتی۔اُسے غریبوں سے کہ کام کرتی۔کبھی رات گئے فون آتا تو زندگی سے بطور خاص محبت تھی۔کسی کی مجبوری دیکھ کر دل بھر پور آواز میں خوشی خوشی بتائی۔اس وقت عجیب تڑپ جاتا۔ایثار و قربانی سے وہ دوسروں کی مدد کرتی چیز پڑھی۔دل چاہا تمہیں بھی شریک کروں یہ او یہ اور پھر جس کا دوبارہ ذکر کرنا تو در کنار وه ہمیشہ شرمنده وہ بہت خوبصورت کوئی اقتباسی سناتی۔فون پر ہماری سی رہتی کہ جس قدر چاہیے تھا کہ مد کی جاتی اتنی گفتگو دو پھلوں کی گفتگو ہوتی۔عجیب بلند و بالا منصوبے ممکن نہ ہو سکی۔اگر اس کا بس ہوتا دنیا میں کوئی سیرت پاک کے متعلق نئی نئی باتیں۔حضور ایده الورود حاجت مند، بیمار ، مجبور، ہے بس ایسا نہ ہوتا جس کی یادیں، جماعت کی ترقی کے لئے تجویزیں خطبات کی کے پاس پہنچ کہ اس کی مدد نہ کرتی اور عزت نفس کے شیریتی، غرضیکہ ہمارے موضوع تمام خواتین کے مروجہ