حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 35 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 35

مصباح ریده مریم اقبال ۳۵ 35 راضی ہیں ہم آہی ہیں جس میں تمری رضا ہو بچپن میں والدین کے فوت ہوتے ہر ہم بہنوں ور نہ کراچی آکیہ بہت ماروں گی۔دسمبر ١٩٩٣ء کو آپا جان نورجہاں صاحبہ کے زیر سایہ تربیت و ہم تہران گئے تو بشری اور داؤد نے میزبانی پر ورکش ملی۔اس طرح ہم اور بیشتری ایک ساتھ پہلے کا حق ادا کر دیا۔بشری اپنے گھر میں بڑی تیری دعوتیں کی بڑے۔آج اپنی اس پیاری بھانجی کے متعلق لکھنے کرتی اور وافر کھانا پکاتی کیونکہ اس کا شیر خرمہ اور سے ماضی کی ان گنت یادیں تازہ ہو گئیں۔بچپن میں حلیم سب پسند کرتے اور کھانا کھانے کے بعد ساتھ بھی بہتری کا غیر معمولی اندازہ دل لبھانے والا تھا میبیست بھی نے جاتے تھے۔دونوں میاں بیوی کے ایک سے چاق و چوبند، ہشیار مگر منکسر اور عاجزانہ طبیعت شوق تھے۔خدمت خلق مہمان نوازی ، کھل کر خوش ہوتا۔اللہ پاک نے بھی توب نوازا تھا۔ایران میں اتنی کی مالک تھیں۔تعلیم کے زمانے میں ہی وہ اکثر سچے خواب کشائش تھی کہ کسی چیز کی کمی نہ تھی۔غرضیکہ مشرکی دیکھا کرتی تھی۔حتی کہ امتحان کے پیچھے بھی خواب ہر قسم کی نیکیوں کو تلاش کمر کے عمل کو تی تھی۔من دیکھ لیتی اور سہیلیوں کے پھلے کے لئے سوالات انہیں بتا دیتا۔جب پرچہ بعینہ وہی آنا تو سیلیاں سمجھتیں کہ کسی ذریعے سے یہ بورڈ سے پرچہ نکلوالیتی تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں ہے۔مگر جب کھوجنے پر ایسا کوئی ذریعہ ثابت نہ ہوتا کے گناہ بختوں کیونکہ شریر ہے وہ انسان تو حیران رہ جائیں کہ خدا تعالی سے زندہ تعلق اس حد کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں۔وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔تک بھی ہو سکتا ہے۔حور کی میرے اور میرے بچوں کے ساتھ بہت تم اپنی نفسانیت ہر پہلو سے چھوڑ دو اور پیار کرتی۔پیار کے اس بندھن کا نتیجہ تھا کہ موب یا نہی ناراضگی بجانے اور سمجھے ہو کر تھوٹے ایران میں تھی میں نے ایک مرتبہ کسی غلطی پر اپنے کی طرح تذلل اختیار کرو تاکہ تم پخشے بیٹے جاوید کو تنبیہ کی اور مارا بھی۔۔۔کچھ دن بعد بشری کا خط ملا کہ آپ نے شوری (جارید کا پیار کا نام ) کو مارا ہے۔اور خفگی کے انداز میں لکھا کہ بانہ آجا جاؤ ر حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ )