حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 28 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 28

مصباح ریوه کو سیرت کی کہانیاں، ہیمنگوان کے ایمان افروز واقعات ، f دسمبر ۱۹۹۳ء صبح کے ناشتہ کی تیاری جس میں آلو کی بھیجیا۔پراٹھے یا گھی جرنیلوں کی باتیں وغیرہ بھی بتائی کیا تھیں اور رات کو امی کا کی روٹی کبھی انڈوں کا انڈے باناز کے طور پر قیمہ ہوتا معمول تھا کہ قرآن پاک کی تلاوت کریں اور سب بچے پاس جو رات کام کرنے والے خودام کے لئے تیارہ کیا جاتا تھا۔ہی لیٹے ہوتے۔اکثر سور نہیں اسی طرح کسی اکشن کم ہی اس میں ملائی اور وہی بھی شامل تھی۔یاد ہو کہتیں۔بچپن میں اکثر ہی قرآن پاک سنتے سنتے سو ہمارے ہاں دودھ کی کثرت ، دہی انڈے ، گھی وغیرہ جانا ہماری خوش قسمتی بھی سب بچوں کو قرآن پاک اقی پیچونکہ ابا جی در اداجان خود گائے ، مرغیاں پالتے تھے نے ہی پڑھایا سوائے باسط کے اس کے چند بارے رہ اور یہ سب انہوں نے بچوں کے لئے ہی کیا تھا۔اس لئے گئے تھے وہ قابو نہیں آتا تھا۔پھر استانی جی نے مکمل اس کی کبھی کمی نہیں ہوئی۔ایک بات بڑی انوکھی تھی۔اگر کبھی ابا جان کو غصہ آجاتا تو وہ ٹہل ٹہل کہ بات کروایا۔اتی کو فارغ اوقات میں جو بہت ہی کم ہوا کرتے کرتے۔امی جان باورچی خانے میں ہو ئیں تو دروازہ بھیر تھے۔قرآن پاک ٹہل ٹہل کر پڑھتے دیکھا یا پھر دعائیں اور لیتی تھیں کہ جب میں نظر نہیں آؤں گی تو غصہ ٹھنڈا ہو نفل پڑھتے۔دمہمانوں کی کثرت کے باوجوداتی کی کوشش جائے گا۔اگر ہم میں سے کوئی کہتا کہ ابھی آپ ابا جان کو ہوتی کہ پیر نہ گہرام کے مطابق ہی دن رات بسر ہوں )۔بتائیں کہ یہ بات ایسے نہیں ہے تو فورا کہہ دینیں بچے ابا جان جب خدام الاحمدیہ کے قائد تھے تو بعض پہلے وہ پریشان ہیں۔یکیں اور انہیں دیکھ دوں۔ان کے اوقات رات بھی گھر نہیں آتے تھے۔اس وقت جب آنکھ پاس ان بے کار باتوں کا وقت نہیں ہے۔انہیں کام کھلتی اور آیا جان کا پوچھتے تو جواب ملنا۔کام سے گئے ہیں کرنے دو۔ابھی نہیں آئے۔دعا کر دو سو جاؤ اور خود نقل پڑھ رہی جب زیادہ غصہ ہوتا تو اتی کھانا سامنے رکھتیں ہوتیں۔یہ امتی کے پسندیدہ مشاغل میں سے تھے۔امتحان تو ابا جان کہتے کہ مجھے بھوک نہیں ہے۔بڑے پیار سے کے دنوں میں تو جیب تک ہمارا پرچہ ہوتا۔امی بات کم ہی کہتیں بیگ صاحب اس کھانے سے کیا ناراضنگی۔آپ کا کرتیں۔اکثر انہیں دم کرتے دیکھا۔بیمار ہوں میں بھی یہی بلڈ پریشر لو رہتا ہے کھانا کھا لیں۔حالت تھی۔میری شادی کے بعد امی نے کہا کہ بیچھے بیشتری ایا جان کی قیادت کے زمانے میں جب پوسٹر لگا کرتے دیکھو گھروں میں مسائل تو ہو جاتے ہیں۔عورتوں کے پاس شہر میں تو ساری رات لئی پکتی اور خدام آکر خالی دیکھا بیکار وقت ہوتا ہے تو ایسی باتیں ہو جاتی ہیں لیکن کبھی دے نیا تیار کیا ہوا لے جاتے گھر کے بھوتوں کے پرکشش، گھریلو مسائل اور جھگڑے داؤ کر کو نہ بتانا۔انہیں باہر اسٹول وغیرہ سب ہی استعمال میں ہوتے اور کہیں مسئلہ کے بہت کام اور پریشانیاں ہوتی ہیں۔اس طرح مرد کی ہوا تو کبھی دیکھے غائب۔اسٹول ندار داور برش عمر کم ہو جاتی ہے۔عوز میں تو ادھر ادھر بیٹھے کہ باتیں کہ تو کبھی واپس نہ آئے۔جب لٹی کا کام ختم ہو جاتا تو لیتی ہیں۔لیکن مرد اپنے دل پر بوجھ رکھ لیتے ہیں۔ویسے