حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 27
مصباح ربوه دنمبر ۱۹۹۳ء ہمارے ساتھ شامل نہ ہو۔کمال برکت تھی جو اسی مہینے جوزف کاپی یا اپنا بیا داشتی، معلومات، اچھے اشعار سبق آموز تحریریں، اقوال وغیرہ کے لئے بطور ڈائری کے رائش میں دکھائی دیتی تھی۔ا یا جان کی صحت شروع سے ہی کمزور رہی ہے۔استعمال ہوتی۔یہیں موٹی سی کا پیاں جماعتی کا سرے کے اقی جان ان کے لئے الگ کھانے کا انتظام کرتی تھیں۔نوٹس کے کام آتیں جو کسی بھی کوئی کوئی موجود ہے۔آج لیکن کبھی کسی بچے نے اس میں سے لے لیا تو ان کے ہمارے بچپن میں بھی اور آج بھی ابا جان کی مصروفیت سمجھانے کا طریق یہ تھا کہ دیکھو تمہارے ابا جان صبح وہی ہے لیکن اب تو دوپہر میں گھر آجاتے ہیں جبکہ بچپن میں سے رات ایک کام کرتے ہیں۔یہ اُن کے لئے ہے۔میں کئی کئی دن ہو جاتے تھے ابا جان نظر نہیں آتے تھے۔سال میں دو تھوڑے عید الفطر یہ نیتے تھے۔ہوتا ہمارے اٹھنے سے پہلے چلے جانے اور سونے کے بعد آتے۔= دہی اسکول والا۔یہی کپڑے ہوتے ہر تقریب میں بڑی شان اتی صبح اذان کے وقت اٹھا دینی تھیں۔اور اس سے پہنتے۔اسکول کی کاپیاں کتابیں کبھی تحراب نہیں کیں۔وقت تک امی کپڑے دھو چکی ہوتی۔سب بچے وقت چہ ہرانے کورسی خود گھر میں امی جان جوڑ کہ سی کہ جلد ہیں نماز ادا کرتے۔پھر قرآن پاک پڑھتے پھر ناشتہ تمھا۔اس درست کر کے کو چڑھا کر دے دینیں کا یہاں لے کر میں رد و بدل کا امکان کم ہی تھا۔اسی طرح نمازوں کی ان کے ہر پیچ پر نمبر لگوائیں۔کتاب یا کاپی پھاڑنے کا تو بر وقت ادائیگی نہ کرنے پر سختی بھی ہوتی۔اس پر معافی ممکن سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔پنسل ایک ملتی اور صحیح نہ تھی۔دوپہر میں اسکول کے بعد تھوڑی دیر سلا دیتیں اور یا تو خود توانش که دوبیتی یا پھر جب بڑے ہو گئے تو چھوٹوں شام کو رات کھانے تک اسکول کی پڑھائی مکمل کہ لیتے کا یہ کام ہمارے ذمے لگ گیا۔ریٹر، نٹ وغیرہ کبھی نہیں رات کھانے کے بعد عموما دینی باتوں کا پروگرام ہوتا۔کبھی توڑے نہ ضائع ہوئے۔اگر گم ہو جاتے یا ٹوٹ جاتے تو پھر بیت بازی کبھی سوال و جواب۔رات سوتے ہوئے امی ان کا حساب دینا پڑتا۔بڑے پیار سے سمجھا نہیں دیکھو بیچو کے ساتھ لیٹے لیٹے نماز، نماز با ترجمہ دعائیں نظمیلی وغیرہ ان چیزوں کا خدا تعالٰی احساب لیتا ہے۔یہ ساری نعمتیں اس نے بار کا باری شناد یتے۔پھر دعا میں دہرا کہ سونے کی تلقین کر ہیں۔تم کو اس لئے نہیں دیں کہ خود ہی استعمال کرو بلکہ اس میں چھٹیوں کا پروگرام ذرا مختلف ہو جاتا۔صبح سے دوسروں کا بھی حصہ ہے۔اگر ضائع کر دیں تو ان کو کیسے دو دو برنز تک اسکول کا کام ، شام کو کوئی مشغلہ مٹی کے گے۔اس لئے ان کی قدر وقیمت کا احساس کرد کا پیاں برتن ، فروٹ ، کھلونے وغیرہ۔گڑیا کی شادی کی تیاریاں۔پنسلیں، پن اریٹر نٹ وغیرہ سال کے شروع میں ابا جان رات کو وہی دینی پروگرام حضرت باقی سلسلہ کی کتب شروع ہوئیں اکٹھی ہول سیل سے لے کر آتے۔اور کاپی بھرنے کے بعد باری باری اس کے چند صفحے سنائے جاتے۔امی جو بات سمجھے اتی چیک کر کے دوسری کاپی دے دیتیں۔میں نہیں آتی و بتاتی اور اردو بھی درست ہوتی اور شکل سال ختم ہونے پر پیرانی کا پہیوں کے سارے کا منہ الفاظ بھی سمجھ میں آتے ، معلومات کبھی بیڑے بھا نہیں، احادیث نکال لئے جاتے اور ان کو جوڑ کر الگ کا پیاں بنائی جانیں قرآن پاک کی سورتیں بھی باری باری دہرائی جاتیں چھوٹے بچوں