حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 17 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 17

مصباح دیوه امتہ الباری ناصر - کراچی 17 ایک منی بشری سے ومبر ١٩٩٣ء محور جہاں بشریٰ کی تابعیت کا شہرہ اُسی معاملہ ہو گیا۔بشری کی صحت کافی عرصے سے کسی ملاقات سے پہلے مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ربوہ کے سالانہ نہ کسی عارضے سے کمزور ہو رہی تھی اور اس کے اجتماعات میں ہر شہر کی چیدہ مقررات کے درمیان مقابلہ علاج پر مناسب توجہ نہ دینے کا موضوع اکثر زیر بحث ہوا کرتا تھا۔کہ اچھی کی نمائندگی کرنے والی ٹیم میں انعامات رہتا۔آپا سلیم، مستر بخشی، ہمی، برکت ناصر، نگار وصول کرنے والوں میں دو چوٹیوں والی سمارٹ سی لڑکی تعمیمہ سب ہی اسے حسب توفیق ڈانٹتے اور اصرار کرتے پیش پیش تھی۔تقریر کا مقابلے لوٹ لینے کی اہمیت رکھنے کہ بشری ڈھنگ سے علاج کھو داد تا کہ زیادہ کام کر والی محمدی بہت تبلد معروف ہو گئی۔۱۹۶۴ء میں خاکسار سکو۔بیٹری کو کاموں سے فرصت نہ تھی۔وہ حساب کیا چی آئی تو مرکز میں سیکرٹری ناصرات الاحمدیہ ہونے کی لگاتی کہ کتنے دن نکل جائیں گے اور کتنا کام پڑارہ پا سے سعادت کی وجہ سے کراچی لجنہ نے پذیرائی کی استقبالیہ گا۔اُسے اپنے عرصہ حیات کی تنگی کا علم نہ تھا ورنہ شاید دیا گیا جس میں بشرکا نے بڑی اچھی تقریہ کی ، جب اس نے وہ زندگی کرنے کی ضروریات جتنا وقت دیتی وہ اپنی آٹو گراف یک میری طرف بڑھائی تو اس میں بہت سی بھی جماعت کو دے ڈالتی۔بال سخہ میرے اصرار سے وہ محترم ہستیوں کے دستخط اور دو کا یہ جملے پڑھ کر بچی کے آپریشن کروانے پر آمادہ ہو گئی۔اپریل ہو گا جب ہم پہلی دفعہ ہولی فیملی ہسپتال اس مفید شوق سے بہت متاثر ہوئی۔کراچی ، لاہور ، اسلام آباد میں کچھ کچھ سال گزار کر جیب ۱۹۸۰ ء میں کی او پی ڈی میں کھڑے تھے۔ہر علاقے کی خواتین اپنی اپنی کراچی منتقل ہوئے تو خاکسار کو لینہ کا کام باقائدگی باری کے انتظار میں پہنچوں پر بیٹھی سنیں۔بہتری اور میں سے کرنے کا موقع ملا۔کسی شہر میں نیک مستعد ہم مزاج ساتھی ایک دیوار کے ساتھ لئے کھڑے تھے اور حسب معمول مختلف النوع مل جانا نعمت عظمی ہوتا ہے۔ہماری کوئی رشتہ داری نہ موضوعات پر کعبہ کرنے کے لئے فرصت ہی فرصت تھی بہت تھی۔یہی رفاقت نے یک جان و در قالب کر دیا۔دیر تک تو اپنی قمر کی باتیں کرتی رہی۔یہیں اس سے ذکر کر احمدیت کا رشتہ سب رشتوں سے قوی تر اور مبارک بیٹھی کہ چند دن پہلے جب تمہاری امی سے کہا کہ آپ بشری ہے۔تنظیم کے مقومہ فرائض میں ہم آہنگی اور تعاون پر زور ڈالیں کہ وہ علاج کمر والے تو کسی طرح وہ بے اختیار کے علاوہ بے تکلف تعلقات میں دو گھراتے شریک ہو کر روئی خیلی کہ بشری اپنی صحت پر توجہ نہیں دیتی ہو گئے اس طرح میرا اور بیشترنی کا سگی بہنوں جیسا کہتی ہے ابھی بہت کام ہیں۔اس بات سید اشتری کو اپنی