حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 66 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 66

مصباح ریوه امر الرشید غنی - کراچی 66 خور جہاں بشری ر ۱۹۹۳ء عزیزه بیشتری داؤد صاحبہ لمبند کرا چکا کی روح رواں۔پہلے سے بہتر مہر ہی تھیں۔میں ان کی امی سے فون سر گرم کار کے شہدمت دین سے سرشارہ ہمت و عظمت کا پہاڑ پر حال پوچھتی رہی۔جمعہ کی نماز کے بعد بھائی مجید کے ہر ایک کی حوصلہ افزائی کرنے والی محبت و شفقت کا محبتم ساتھ یکی اور بھابھی جان ہسپتال گئے۔دیکھتے ہی عاتیزی و انکساری کا پیکیت ہر جلسے پر محفل کی رونق - کہنے لگیں۔اچھی باچھا میں نے آپ کو کہلوایا بھی تحریر و تقریبہ کی دھتی۔دل چاہتا تھا بیشتری بولتی جائیں تھا کہ آپ تکلیف نہ کریں۔آپ پھر بھی آگئیں ہم تھوڑی اور ہم سنتے جائیں۔والدین کی ہمدرد و غمگسار بہن دیر بیٹھے باتیں کرتی رہیں۔دوسرے لوگ آرہے تھے۔بھائیوں یہ جان چھڑکنے والی ، سسرال میں مہر و عزیز شوہر جگہ تنگ تھی۔ہم آنے لگے۔لیکں نے کہا بیشتری ! اب آپ کی چہیتی۔بچوں کے لئے شفیق اور بہترین ترمیمیت کرتے گھر آجائیں گی تب ہی آؤں گی۔کہا " اللہ آپ کو جزاء والی ماں شیریں زبان ، بڑوں کا عزت واحترام کرنے دعاؤں میں یاد رکھیے گا : اس کے بعد کبھی والی چھوٹوں سے بے حد پیار کرنے والی۔احکام شریعت فون پر اور کبھی ان کے سسرال کے عزیزوں سے کی پابند۔اللہ کے حضور بھی حاضر ہوئیں تو مرقع اوڑھے حال پوچھتی رہی۔ہمیشہ تسلی بخش جواب ملتا کہ اللہ تعالی دے۔عقایی - عزیزہ جبین نے بتایا کہ بیشتری با جی کو گھر لانے کے فضل سے بہتر ہو رہی ہیں۔بس ایک دو دن ہیں کے بعد ہم نے ان کا یہ نفع اتارا ہے۔سب کے لئے نیک نمونہ۔یقین نہیں آتا کہ اتنی پیاری بشری اللہ کو پیاری ہو چکی ہے۔گھر آنے والی ہیں۔اگلی مشکل کو ڈاکٹروں نے ہر طرح تسلی کر نے بور چھٹی دے دیا۔دوپہر دو بجے کے بعد تیار ہوئیں۔بتری کو کئی سال سے تکلیف تھی۔ڈاکٹر تریوں سے گلے مل کے سب کا شکریہ ادا کیا۔اپنی اتنی آپریشن کے لئے کہتے تھے مگر ٹالتی جامہ ہی تھیں۔جیسے کے ساتھ لفٹ سے نیچے آئیں۔عزیز داؤد احمد گاڑی کوئی انجانا سا خوف ہو۔اس دفعہ حضرت چھوٹی آپا جان نہ دیک لانے کے لئے گئے۔اتنی سی دیر میں ہارٹ صاحبہ اپنے علاج کے لئے کہا اچھا تشریف لائیں تو انہوں اٹیک ہوا۔فوراً ایمر جنسی میں سے گئے۔وہاں دو سٹرائیک نے بھی سمجھایا کہ ہماری کو مت بڑھاؤ آپریشن کروا لو۔ہوا۔اونچی آوازہ سے " اللہ " کہا اور آنکھیں بند کر یشری کہتی تھیں کہ اب تو انکار کی گنجائش ہی نہیں لیں۔اللہ تعالی غمزدہ والدین اور عزیز واقارب کو صبر جمیل تھی میں نے ہاں کر دی۔آپریشن کامیاب ہوا۔دن بادی عطا فرمائے۔اس کے بچوں کا خود حافظ و ناصر ہو جمعہ والے۔۔