حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 57 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 57

مصباح ریوه ۵۷ 57 دسمبر ۱۹۹۳ د سے ملاقات میں بشری کے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔جس میں میٹرک کے بعد داخلہ دیا جانا تین چار سال حضور نے بڑی شفقت سے تسلی دی۔بیشتری کو پیارے کا کورس میں میں تعلیم حاصل کر نے والیوں کو باقائدہ آنا کے محبت بھرے الفاظ سے نئی زندگی مل جاتی۔وہ ہر انٹر اور بی اے کی طرح ڈگریاں دینے کا پسند گرام تھا دکھ درد بھول جاتی۔پھر ڈیوٹی کے دوران سخت سے تکریم مولانا سلطان محمود انور صاحب نے امانت کی۔سخت الفاظ برداشت کر تے کا جو سلمہ ہو جاتا۔ڈیوٹی کافی با قاعدہ منصوبه حضور ایدہ الورود کی خدمت میں پیش کیا۔مشکل تھی اور عالم یہ کہ بشری کی گود میں طولی اور میری گود کچھ زبانی گفتگو کے بعد پیارے آقا نے بشری کی فائل میں احسان ، برقع پہنا ہوا ، تن بدن کی ہوش نہیں۔مگر پر منظور ہے تحریر فرما کہ اپنے دستخط ثبت کئے۔، اس میں بھی ایک نہ روحانی تعلق ہے جس کے ذائقے کا بشری کو ایسا جنون سوار تھا کہ لوگوں کو قائل کیا۔کئی لڑکیوں نے کالج چھوڑ کہ داخلہ لیا بہت کامیابی سے سلسلہ اب تک جاری ہے۔کیسٹ پروگرام شروع کیا تو تحریک کی کہ اگر کلاس شروع ہو گئی۔مگر بوجود اسے بند کر تا پڑا۔شہری خواتین کچھ محنت کر کے اپنے ہاتھ سے چیزیں تا کہ فروخت کو اس کا اس کے بندہ ہونے کا بے حد دکھ تھا۔آپس کے سے رقم جمع کمر کے کیسٹ خرید کر تحفہ دیں تو حضرت رابطوں کے انقطاع کے خدشہ کے پیش نظر بشری نے اماں جان سیدہ نصرت جہاں بیگم کی روایت تازہ کی جا نیا راستہ نکان اور ایسے کور ستر مرتب کر ڈالے حسن کے سکتی ہے کافی خواتین نے اس پر عمل کیا۔بیشتری نے ذریعے ایک منظم اوپن یونیورسٹی کی درس گور من گھروں شربت بنا کہ بیچا اور اس سے حاصل ہونے والی تیم کیسٹ تک پہنچائے جائیں۔اس سلسلہ کو اس نے مجاہلیہ اور ماؤں، پروگرام کے لئے دی۔بیشترٹی کو اس پر حضرت صاحب کا اور مجاہد بچوں کا نام دیا۔یہی کو رمتر بعد میں کونسیل تعریفی خط بھی موصول ہوا تھا۔نتیجہ اور گل کے نام سے شائع ہوئے۔وہ خاند سالار ۱۹۸۳ درمیان منیر باری کا بند ٹوٹنے پیر سیلاب کی طرح بروم چاق و چوبند رہتی۔ایسا قافلہ سالار جو میر آیا تو اس نے کراچی کی بعض نسبتا کم وسائی والی آبادی میں وقت حالت جنگ میں ہو۔جہاں وہ انقلابی منصوبے تباہی مچادی۔فوری طور پر خدمت خلق کی کارروائی کی گئی سوچتی وہاں دفتر مجنہ کے نالتو پنکھے آف کم ہی ہوتی بہتر کا نے اس میں یوں حصہ لیا کہ اپنے بزورگ نانا جان کا غذ سنبھال سنبھال کر رکھتی کہ اگر ہم اپنا سریا به اسن کاغذ کا مہینے سے بچاؤ کا ایک نسخہ نکالا اور کئی دن تک طرح ضائع کریں گے تو جماعت کی ترقی کے لئے کیسے خرچ کئی لیٹر دوا تیار کہتی رہی جو ضرورت مندوں تک کریں گے اس کو شوق ہوتا کہ دوا لئے اپنی توانا کیوں پہنچائی گئی۔کم بر قشرہ جھونک دے۔وہ شادی۔میں خستہ عراقی بیٹری کو ینگ لجنہ کو فلیم دیں دینے کا شدید یکی یا کسی کو تحصہ دیں تو بہترین چیز وہی ایک دفعہ چند تھی۔پندرہ روزہ کانوں سے اُس کا دل نہ بھرتا میری تحریک نایاب سکے اشرفیاں دیتیرہ جو عرصہ سے سنبھال کر رکھی پر اس نے جامعہ احمدیہ کی طرفہ پر ایک پروگرام ترتیب دیا۔تھیں چندے میں دے دیں۔