حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 51 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 51

مصباح دیوه * Si دسمبر ۱۹۹۳ء صرف اپنے آپ کو بھی زندہ جاوید نہیں کر گئی بلکہ اپنے لکھتی کہ نہیں۔یہیں کہتی بشر کی جان ذرا سو جاؤ آرام لواحقین کے لئے بھی اس کا وجود منفعت بخش ثابت کر لو تو ہمیشہ ایک ہی جواب ہوتا کہ باجی میری فکریہ ہوا۔اس کے کار ہائے نمایاں کے باعث ان کے والد صاب کم ہیں۔آپ سو جائیں میرے پاس وقت کم ہے۔جب نے بھی اپنی زندگی ہی میں اپنے متعلق حضور کے تعریقی بھی کسی نے کہا کہ اپنی جان کا بھی حق ہے اتنا کام نہ کلمات کس لئے۔میرا قلم میرا ساتھ نہیں دے رہا بلکہ کیا کہ وہ تو اس کو یہی جواب ملتا کہ میرے پاس وقت میرا دل ابھی تک اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ ہم تھوڑا ہے۔میں حیران تھی کہ یہ مسلسل آٹھ راتوں کو سے دور بہت دور اپنے پیارے اللہ میاں کے بلاوے کیسے جاگ کر گزار لیتی ہے اور جو وقفہ دل کے پہ اس کے حضور حاضر ہو چکی ہے۔وقت ملنا اس میں کچھ آرام کر لیتی۔اور کبھی کسی بات بشری کچھ عرصہ اپنے میاں داؤ ر احمد صاحب کے پر ہنسی آتی تو کھیل کھلا کہ ہنستی۔اس کے تینوں ساتھ ایران میں رہیں اور جب پاکستان آئی تو ضرور کی آواز آج بھی میرے کانوں میں گو شبح رہی ہے۔ہر مجھے ملنے لاہور آتی۔مجھے باجی کہہ کر مخاطب کرتی تھی۔ناگوار بات کو بھی قہقہوں میں ڈیو لیتی تھیں۔ساری رات اور کہتی کہ دیکھیں باجی چاہے دو دن کے لئے آؤں مگر جاگنے کی عادت طالب علمی کے زمانہ سے ہی تھی۔جب آپ سے ملے بغیر جانے کو دل نہیں چاہتا۔میں ہمیشہ یہ سب رات کو سو جاتے تو وہ اس خیال سے کہ میرے سمجھتی رہی کہ بشری کو میرے ساتھ خاص انس ہے مگر رات کو روشنی ملا کر پڑھنے سے والدین اور بھائی وفات کے روز جو دیکھا تو اپنی نادانی کا احساس ہوا کہ بہنوں کو تکلیف ہوگی وہ باورچی خانہ میں بیٹھ کر بشری تو سب کی بینری تھی۔کیونکہ مر کسی کو یہی کہتے سنا مطالعہ کیا کہتی تھیں۔کسی شاعر نے سچ کہا ہے۔کہ بشری میرے ساتھ بہت پیار کرتی تھی اور حقیقت بِقَدْرِ الْكَدِ تَلْتَبُ الْمَعَالِي بھی یہی ہے کہ وہ منکسر المزاج - خوش اخلاق شیریں گفتار وَمَن طَلَبَ العُلى سَحَرَ الليالي غمگسار ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ ہر ایک کو خندہ پیشانی کہ جتنی کوئی شخص محنت کرتا ہے اس کے مطابق سے مسکراتے ہوئے نہایت پیار سے ملتی تھی۔جس کی وجہ وہ بلندیوں کو حاصل کرتا ہے اور جو بلندیوں کو حاصل سے ہر ملنے والا اس کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔کہنا چاہتا ہے وہ راتوں کو جاگ کر گزارتا ہے۔حضور کے ارشاد کے تحت بشر کی پندرہ تومیر اُس نے اپنا تن من دھن سب کچھ خدمت دین ۱۹۹۲ء کو لاہور تشریف لائیں اور جاتے جاتے لجنہ کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ہر وقت کسی نہ کسی خدمت میں سرگرداں رہتی۔اپنے بچوں کی نہایت شاندار کو گئی۔یہ ہفتہ آٹھ دن کا قیام میرے ہاں ہی تھا او را تربیت کی نظام سلسلہ کا احترام اور خدمت دین کا جذبہ کسی نہ کسی علقہ میں تقریر کرنی ہوتی تھی اس کا معمول ان کے دلوں میں بھر گئی۔پورے کا پورا خاندان خدمت دیں تھا کہ رات تقریرہ لکھنے کے لئے بیٹھ جاتیں اور رات بھر کا ندائی اور شیدائی نظر آتا ہے۔اس کی تھی کسی لڑکی بار اللہ لاہور کے لئے بھی اپنی یادوں کے چراغ زردش بورا