حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 39
مصباح بوه ۳۹ 39 دسمبر ۱۹۹۳ء کی مصروفیات یا بیماری کو دیکھ کہ ہم گھر سے کوئی چیز جان بھی شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔پھر بھی اتنی پکا کر لے جاتے تو بہت برا مناتیں اور کہتیں کہ میرا ہمت سے کام لے کر میرا اتنا خیال رکھا۔پہلے بھی اکثر گھر کوئی پکنک پوائنٹ نہیں ہے۔کھانا بہت اچھا اچھی اچھی چیزیں پکا کر بھیجتیں۔پیکاتی تھیں نئی نئی ڈشز تیار کرنے کا بہت شوق تھا۔یکیں اُن کے انسانوں کا کچھ بھی بدلہ نہیں دے پوروں سے بہت پیار کرتی تھیں۔گھر کے اندر سکتی سوائے اس کے کہ دُعا کروں کہ خدا تعالیٰ باجی باہر ہر جگہ گلے سجائے ہوئے ہیں اور ان کا بہت کو ان کی نیکیوں کا بڑھ چڑھ کر اجر دے۔اور ان کے خیال رکھا کرتی تھیں۔رلیاں بنانے کا بھی بہت شوق تھا۔بچوں کو دین و دنیا میں ہر طرح کا میاب بنائے جس کا مختلف کپڑوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے سنبھال کر رکھتیں انہوں نے اپنی زندگی میں تصور کیا ہوگا۔اور پھر اُن کو جوڑ جوڑ کر بڑی محنت سے ریلیاں تیار کر ہیں۔سخت محنتی تھیں اتنے سارے جماعت کے کام کرتیں اور پھر گھر کو بھی پورا وقت دیتیں۔ساری ساری رات واقفین بچوں کا جنرل نالج بڑھائیں جاگ جاگ کر کتابیں لکھتی تھیں۔کپڑے بھی خود سیتی حضور نے فرمایا : "عام طور پر دینی مایا میں نہیں کمزوری تھیں۔بیٹی کے کپڑوں پر خاص توجہ دیتی تھیں۔بہت خوبصورت فراک بنائیں۔ہر کسی کی ہمدرد تھیں۔کسی کی دکھائی دیتی ہے کہ دین کے علم کے لحاظ سے تو ان کو علم کافی وسیع ضرورت کا پتہ چلتا تو فوراً اس کی ضرورت پوری کرنے اور گہرا بھی ہوتا ہے، لیکن دین کے دائرہ سے باہر دیگر دنیا کے دائروں میں وہ بالکل لاعلم ہوتے ہیں۔اس لئے جماعت کی کوشش کرتی۔دعوت الی اللہ کا اس قدر شوق تھا کہ گھر میں احمدیہ کو اس سے سبق سیکھنا یا ہیئے اور وسیع بنیاد پر قائم آنے والی ماسی اور دودھ والے کو بھی جماعت کی باتیں دینی علم کو فروغ دینا چاہئیے۔یعنی پہلے بنیاد عام دنیاوی علم بتائیں۔تین دنوں بیمار تھیں میں ملنے ہاسپٹل گئی تو کی وسیع ہو پھر اس پر دینی علم کا پیوند لگے تو بہت ہی خوبصورت مجھے بہت خوش ہو کہ بنانے لگیں کہ نہیں یہاں پر بھی اور بابرکت ایک شجرہ طیبہ پیدا ہو سکتا ہے تو اس لحاظ سے کافی دعوت الی اللہ کا موقع ملا ہے۔سب ارد گرد کے بچپن ہی سے ان واقفین بچوں کو جنرل نالج بڑھانے کی طرف کمروں میں جو عورتیں مریض تھیں ان کا حال احوال پوچھتیں متوجہ کرنا چاہئیے۔آپ خود متوجہ ہوں تو ان کا علم آپ میرے سامنے اپنی امی کو بھی بتا یا کہ خانہاں کمرے میں فلاں ی آپ بڑھے گا یعنی ماں باپ متوجہ ہوں اور بچوں کے لئے کے ہاں غالیا کرہ کا ہوا تھا اس کو جاکر مبارک باد ایسے رسائل، ایسے اخبارات لگوایا کریں۔ایسی کتابیں پڑھنے کی ان کو عادت ڈالیں جس کے نتیجہ میں ان کا علم وسیع ہو۔خطبه جمعه فرموده ۱۰ فروری ۱۹۸۹ ء ) دے آئیں۔جب میرا چھوٹا بیٹا پیدا ہوا بشری باجی نے مجھے اچھی اچھی چیزیں پکا کر بھیجیں۔حالانکہ ان دنوں بھائی۔