حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 25
مصباح دیوه ۲۵ 25 ومبر ۱۹۹۳ء لیا کہ خدایا ان کا پیڑا بٹیا ہے۔اور اماں جی (وادی جان ) اور میرا ایمان پیچ گیا۔احمدی نہیں رہیں۔اگر کچھ ہوا تو میں کیا کہہ سکتی ہوں نہیں جب ہم بڑے ہوئے اور شادیوں کا وقت آیا نے تو خود ہی آگ اور خون کے حوالے کر دیا۔ابا جان بتاتے تو بعض خواتین نے امی کو مشورہ دیا کہ اب آپ اپنا یہ ہیں کہ جب وہ واپس آئے تو اتی صحت کے لحاظ سے گھر بدل لیں۔کوئی اچھا بڑا گھر لیں۔ورنہ بچیوں کے اچھے رشتے نہیں آئیں گے۔یہ تو صرف دو کمروں کا گھر بہت کمزور تھیں۔دین کے لئے غیرت : ہمارے معاشرے میں جیسا ہے۔اپنا STATUS بدلیں۔کہ بچیوں کی پیدائش پر کچھ افسردگی کا احساس ہوتا ہے اتی نے ابا جان سے بات کی تو ابا جان نے بھیں اسی طرح تین بہنوں کے بعد چوتھی بچی کے وقت گمان ہوا کہ یہی بات بتائی کہ چند دوستوں نے بھی ایسی ہی بات کی پھر لڑکا نہ پیدا ہو جائے۔کیونکہ ابھی بیٹا نہیں تھا چونکہ ہے۔پھراتی سے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے۔امی نے کہا کہ ابایی (دادا جان ) اپنے خاندان میں تنہا احمدی تھے اور یکیں تو سمجھتی ہوں کہ رشتے خدا کے فضل سے ہوتے ہیں اماں جی (دادی جان) ابھی احمدی نہیں ہو کیں تھیں۔لیکن ظاہری چیزوں کی تو کوئی حقیقت نہیں اور نہ ہی ہم اپنے خاندان سے وہ بھی بہت مختلف تھیں۔ظاہری چیزوں کے متمتی ہیں۔صرف نیک متقی ، دین لیکن غیر از جماعت افراد خاندان کی خواتیں بضد سے محبت کرنے والے نظام سے وابستہ لڑکے ہوں۔تھیں کہ منت مانی جائے۔اور جب بیٹا پیدا ہو جائے محنتی، رزق تو خدا تعالٰی ہی دے گا۔ابا جان نے کہا کہ تو ابا جی سے چھپ کر اس منت کو ادا کر دیا جائے۔میرا بھی یہی خیال ہے۔خدا پر بھروسہ رکھو۔آخر امی کو بتائے بغیر خود ہی ان لوگوں نے منت مان لی۔یہ ان کا تو کل ہی تھا کہ سب بہنوں کی شادی اللہ مزار پر بھی (عبد اللہ شاہ غاندی) اور نا نہ یہ کی بھی جب تعالی کے فضل سے نیک منتفی خاندانوں میں ہو گئی۔اور وہاں سے جو چیزیں ملیں تو امی کو کہا گیا کہ یہ تم کھا لو سب اپنے گھروں میں خوش ہیں۔دنیا کی بے شمار نعماء کچھ فرق نہیں پڑتا۔لیکن اتنی بتاتی ہیں کہ کہیں نے دل میں بھی ملیں اور دعاؤں کے نتیجے میں بہو بھی خوبصورت کہا کہ ایسا نہیں ہوگا۔اور کمرے میں آکر یوں لگا جیسے میرا خواب سیرت ، خدمت گزار ہے۔دم نکل جائے گا۔پھر جب حالت سنبھلی تو بے اختیار خدا ابا جان شادی کے بعد بھی والدین کے ساتھ تھے کے حضور خوف سے روتی جاتی تھیں کہ میرے مونا میرے اور مشترکہ خاندان میں جیسے خرچ اور آمدنی گھر کے بزرگ ایمان کو بچائے۔اور اب اگر تو نے بیٹا دینا بھی ہے تو ہی چلاتے ہیں۔اماں جی کو ہی اتبایجان تنخواہ دیتے تھے نہ دے۔بیٹی ہی دے میں صبر اور شکر سے اس کو قبول پھر جب اتنی نیچے کے گھر میں منتقل ہو گئیں تب کھیرا ہیں کہوں گی کیونکہ مجھے خوف ہے کہ اگر بٹیا ہو گیا تو زندگی طرح نظام چلتا رہا ابا جان اتما کو کبھی کہتے کہ آپ کو کے کسی لمحے یہ گمان نہ کرلوں کہ شاید منت کی وجہ سے پیسوں کی ضرورت ہو تو اماں سے لے لیا کریں تو اتی ہو ہے۔اور اللہ کا بے پناہ شکر ہے کہ اُس نے بیٹی دی۔ایک ہی جواب ہونا۔بیگ صاحب آپ فکر نہ کریں میرا