حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 56 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 56

مصباح دیوه محمودہ امتہ السمیع وہاب 56 آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے دسمبر ۱۹۹۳ء پہلی مرتبہ بشری داؤد کو احمدیہ ہال میں جلسہ کی نہیں ہوتا کہ بشری کے ساتھ گزارے ہوئے دنوں میں کمپیٹر نگ کرتے دیکھا۔شخصیت پرکشش تھی۔تعارف سے کوئی نہ کوئی باد سامنے آکر ہوش و حواس کار داشتند بعد میں ہوا۔جب حضرت امام جماعت احمدیہ الثالث نے نہ روک لے۔پھر ایک عالم نے سعودی میں ماضی میں پہنچ منتظمہ کمیٹی بنائی اور اس کی ایک ممبر بشری داؤد کو جاتی ہوں۔کچھ حسین یادیں پیش کرتی ہوں کیونکہ اسی ناصرات نامزد فرمایا۔میں اس وقت حلقہ ڈیفنس کی سیکریٹری انا رات کی باتیں دہرا کر دل کو سکون سا ملتا ہے۔تھی۔جب مجھے قیادت نمبر ایک کی سیکر ٹری بنایا گیا تو کام ۱۹۸۲ء میں جب حضور کراچی تشریف کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے بے حد گھیرائی۔اس گھبراہٹ لائے تو مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ کی صدارت فرمائی۔ہم میں بشری نے بڑی اپنائیت سے حوصلہ بڑھایا اور مدد قالین پر بیٹھے تھے۔پیشرفی نے ایک انقلابی پروگرام ترتیب کا وعدہ کیا۔اس کے بعد جب بھی مجھے راہنمائی کی ضرورت دیا تھا جو حضور کی خدمت میں پیش کرنا تھا۔مگر حال یہ تھا کہ ہوتی ہیں بشری کو فون کرتی یا ہال میں ملنے پر پو چھنی اور بشری جیسی بیان پر قادر لڑ کھڑا رہ ہی تھی اور خواہ مخواہ لفظ وہ ہمیشہ بے حد توجہ سے بات کی کہ اچھا مشورہ دیتی۔غلط ادا ہو رہے تھے۔حضور نے بڑی شفقت سے نسلی دی کم میں وہ مجھ سے چھوٹی تھی لیکن صلاحیت تسلیم شدہ تھی پھر وہ کچھ بہتر پڑھنے لگی۔حضور نے اس پروگرام کو جس اور اُس کے مشوروں کو آخری فیصلہ سمجھ کر مان لیتی۔اس میں کیسٹ ، ڈاکٹرز، ٹیچرز سٹوڈنٹس ایسوسی ایشنز کی ڈھال میں رہ کر کام کرنے کا سلسلہ آخری دم تک بنانے کا ذکر تھا بہت پسند فرمایا۔جاری رہا۔منتظمہ کمیٹی کے پانچ میں سے ایک رکن کے حضور ناصر آباد سے واپس تشریف لائے تو لحینہ پر لاہور منتقل ہوتے ہیں خاکسار کو رکن نامزد کر دیا گیا اور نے اس طرح دعوت کی کہ گھروں سے کھانے پکا کر پلائیں۔عاملہ مرکزی ذمہ داری آپڑی۔ایسے میں اللہ کے فضل وکرم کے کی ممبران کے خاوند بھی تھے۔پیارے آقا نے از راہ شفقت ساتھ بشری داؤد کی ہمرا ہی حوصلہ دیتی رہی کیمسٹ پروگرام ہمارے کھانے چکھے۔بشرکا کے چہرہ پر رونق کا عالم دیدنی کی انچارج بنی جب بھی اور جب کیسٹ پروگرام کو شعر اصلاح و تھا۔حضور کے کراچی تشریف لاتے پر خوشیوں میں بے اندازہ ارشا د میں ختم کر دیا۔ہم ایک ساتھ کام کرتے رہے۔تادم افسانے کے ساتھ ذمہ داریوں اور ڈیوٹیوں میں بھی اضافہ آخر بیشتری اصلاح دار شاد کا کام کر رہی تھی۔اس رفاقت ہو جاتا۔ایک ملاقات کا انتظام کرانے میں چند بے پردہ نے صدمہ کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔کوئی وقت ایسا خواتین کے اوپر جانے کے اصرار پر کچھ بدمزگی ہوئی حضور )