حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 26
مصباح دریده دسمبر ۱۹۹۳ء ہر کا تو ہر ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔اور اگر مانگتا ہی ٹھہرا ہو جاتا۔اسی طرح کھانے کی چیزوں میں بھی کبھی کوئی تو کیوں نہ اپنے مولا سے مانگوں۔چیز ضائع ہوتی نہ دیکھی۔حتی کہ لیموں کے موسم میں بھی سادگی اور قناعت سے ساری نہ زندگی گزارہ کیا۔سلاد میں لیموں استعمال کے بعد اس کے چھلکے یا تو نمک گرمیوں میں دو جوڑے ابا جان کے لئے بنتے تھے چونکہ سفیر لگا کہ بوتل میں ڈال دیئے جاتے یا پھر انہیں سر کے میں ہوتے اس لئے اگلے موسم میں وہ اتنے اجلے بھی نہ رہتے ڈبو دیا جاتا تھا۔اسی میں ادرک، ہری مرچ ، کلونجی وغیرہ اور کچھ بوسیدہ بھی ہو جاتے اس لئے امتی ان کو نوں ڈل جاتی۔وہی چھلکے بعد میں پیاز کے ساتھ مچھلی میں کو گھر میں خود رنگ لیتیں۔وہ امی کے نئے کپڑے ہوتے مسالحہ لگائے قیمے کے کبابوں میں استعمال ہوتے۔جسے دیکھ کر کئی بارہ کہا جاتا کہ یہ تو ہر موسم میں نئے ہرے دھنیے کی موٹی ڈنڈیاں چٹنی میں اور پتے کرتے بنالیتی ہے۔نہ تو کبھی تردید کی اور نہ بتایا کہ کیا سالی ہیں۔کدو کے موٹے چھکے چنے کی دال یا صرف راز ہے۔بڑے بچوں کے کپڑے چھوٹوں کے اور چھوٹوں مسالحے میں پک جاتے اور کو الگ۔اسی طرح گوبھی کے کے ان سے چھوٹوں کے کام آجاتے۔پرانی شلواروں کو پھول الگ یا پھر اس کی ڈنڈیاں پہلے گلا لیندیں اور پھول اکثر الٹ لیتی تھیں۔پائنچے تو ہمیشہ ہی ادھیر کر نئے بعد میں دم پر ڈال دیتیں۔گویا ہمارے گھر میں ہر چیز کا بنائے جاتے تھے۔اور وہ شلواریں چین کے رنگ بھی استعمال موسجود تھا بچے ہوئے کھانوں کی شکلیں بدل خراب ہو جاتے تھے۔ان کو دوبارہ ادھیڑ کر اور کندوں کہ دوبارہ کھا لیا جاتا۔کو اریب سے جوڑ کر پھر سادہ کپڑا بنا لیا۔انہیں رنگ ابا میان کا حلقہ احباب بھی وسیع ہے اور اکثرو کر رضائیوں کی گوتیں اور ولائیوں کی گوتیں بن جاتیں اور پیشتر دعوت کا اہتمام ہوتا۔یہ دعوتیں آجکل کی طرح کی پرانے دوپٹے پرانی ملموں کے استروں کے ساتھ درمیان پر تکلف دعوتیں نہ تھیں ان میں بھی سادگی اور سلیقہ نمایاں کا حصہ تیار ہو جاتا تو سردیوں میں نئی کرمائیاں اور تھا لیکن جتنے افراد بتائے جاتے اکثر ان سے دگنے ہیں ولائیاں بن جائیں۔قمیض کے دامن ہمیشہ مضبوط ہو جاتے بعض اوقات اس سے بھی بڑھ جاتے، اور امی رہتے ہیں۔اس لئے ان سے چھوٹے بچوں کے کپڑے جان کا درود شریف پڑھ پڑھ کر دم کرنا اسی کھاتے ہیں یا پلیٹین کپڑا ہے تو نیکیوں کے کور چھوٹی میزوں کے برکت ڈال دیتا جو سب کو ہی پورا ہوتا تھا۔بعد میں کو ربنالئے بھائے۔چھوٹے بچوں کو تو کچھ مل جاتا لیکن ہم بڑے امی کے ہلکے رنگوں کے کپڑے اور دوپٹے آہستہ آہستہ ساتھ بچی ہوئی سلاد چٹنی وغیرہ کے ساتھ بڑی خوشی گہرے سے گہرے تم رنگوں میں بدل جاتے تھے۔پرانے کے ساتھ کھالیتے۔کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ ہم نے سوئیٹر ادھیڑتے اور پھر یا تو رنگ کو یا پھر اون ملاکمہ دوبارہ نئے تیار ہو جاتے ہو اون بالکل بے کار ہو جاتی ان چیزوں میں سے نہیں کھانا۔اسی طرح شاید ہی کوئی دن ہوتا کہ ہمارے ہاں اس سے ٹاٹ پر ڈیزائن بنا کر گھر میں فرشی قالین تیارہ ناشتہ دو پہر کے کھاتے ، شام اور رات کو کوئی مہمان