حُور جہاں بشریٰ داؤد

by Other Authors

Page 10 of 96

حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 10

مصباح ربوه آنسه شهر ما 10 10 دسمبر ۱۹۹۳ء ما می حضرت امام جماعت احمدیہ الرابع عہد یدارای لجند رہی ہوتیں تو کبھی بیشتری باجی نظمیں اور تقریریں کراچی کو شہد کی مکھیوں کے خوبصورت نام سے یاد فرماتے یاد کروا رہی ہوتیں۔قصیدہ اور چہل احادیث یاد ہیں جس پر ہم بجا طور پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے کروانے کی ایسی لگن اس کے دل میں تھی کہ ہمارے ہیں اور خوشی محسوس کرتے ہیں اگر لجنہ کو اچھی شہد کی حلقہ کی تمام بچیاں اس میں آگے آگے ہوتیں۔مکھیاں ہیں تو بشری داؤد ملکہ مکھی تھی۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے ناصرات کے یشر کی والدین کی پہلی اولاد ہونے کے ناطے گھر ایک اجتماع کے موقع پر فرمایا شوکت (شوکت گوہر میں خوشیوں کی نویز بنتی اور خوبصورت عادات کی وجہ سے دختر مولوی عبدالمالک خانصاحب) خور جہاں نے تمام خاندان کی آنکھ کا تارا بن گئی اور جاکتی قدمت کرکے بچیوں پر بہت محنت کی ہے " اللہ کے فضل سے جماعت میں بھی ہر دلعزیز ہوئیں۔محنت کرنا اس کی فطرت تھی۔اجلاس میں دینی ماحول میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے ابتدائی پڑھانے اور تربیت کرنے کے علاوہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ اثرات کے زیر اثر جو شخصیت بنی وہ ایسی بھر پور تھی ہنر سکھاتے اور ہاتھ سے چیزیں بنانے کی طرف کہ پانچویں جماعت میں ہی ناصرات الاحمدیہ کی سیکرٹری توجہ دلا یا کہتی۔بہترین کام کرنے والی بچی کو انعام بنی اور اپنے وجود میں ناصرات کے لئے محبت لئے ضرور دینا۔اور ہمارا انعام نانا جان کی اس کرسی پر خور جہاں باجی بن گئیں۔چھوٹی سی خور جہاں مخفی بیٹھنا ہوتا تھا جو انگریزی حرف S کی شکل میں تھی نشی ناصرات کی قطار کو رام سوامی سے احمدیہ ہال جس پر دو کرسیاں مخالف سمت منہ کئے ہوئے تھیں۔تک ہر سہ ہفتہ کا یا کرتی۔والدہ یا حلقہ کی کوئی بزرگ ہمیں اُس پر بیٹھنے کی اجازت ملنے پر بہت خوشی ساتھ ہو نہیں اور حور جہاں کے ایک اشارہ پر تمام ہوتی۔بیشتری باجی نصیحت کر نہیں۔دیکھو بزرگوں نے بچیاں منتظم اور باوقار انداز میں احمدیہ ہال پہنچے محنت کی تھی تو ہم نے یہ سب کچھ پایا جو محنت کرے گا اور ان کے نقش قدم پر چلے گا وہ اس کو سی پر میٹھے گا۔جاتیں۔مر مفتنہ گھر میں ناصرات کا اجلاس ہوتا گھر ہفتہ کے باقی دن بھی بچیاں آپ کے گھر کسی نہ کسی ناصرات کے جیس مقابلہ میں آپ ہو تیں کسی کام سے آتی کہ ہیں۔کبھی خالہ جان قرآن کریم شن دوسرے کے اول آنے کے بارے میں کوئی سوچ ہی