حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 9
مصباح دیوه 99 دسمبر ۱۹۹۳ء اس طرح احاطہ کرتی کہ خدا تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق پیدا ہوتا۔اُس کی مہر ادا پر تقویٰ کا رنگ غالب نظر آتا تھا۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور اُس کا خوف اس کے اندر محترم یکجا تھا۔اشرفی داور صاحبہ کا ایک خط وہ ایک سچی اور پکی داعی الی اللہ تھی۔لجنہ کا بیچوں کے نام ٹارگٹ پورا کرنے میں جان کی بازی ہار دی۔صد سالہ جشن تشکر کے موقع پر لجنہ کراچی نے "میرے بے حد پیارے بچو! ناصر، طاہر اور طوبی کتب شائع کرنے کا جو پروگرام بنایا تھا اس میں بیشتر کی اللہ تعالیٰ تم کو ہمیشہ ہمیش اپنی حفظ وامان میں رکھے۔داؤد کا ہاتھ نمایاں تھا۔اپنے سائے میں پناہ دے۔اپنی اطاعت و فرمانبرداری سے تم اسکی جینا شعیر اشاعت کی سیکر ٹر ی عزیزہ امتہ العبادی میں جھکے رہو۔ہر آن اس کی سنا تم کو حاصل ہو۔اسی کی قاطر ناصر (جو اپنے شعبہ کی آبیاری اپنے بہو سے کہتی ہیں) جیو اور اسی کی خاطر موت کو گلے لگاؤ۔کا دست و بازو اور اس کی بہترین مشیر تھیں۔سب کبھی بھی میری جان با اس رب کے در سے جدا نہ ہونا کہ سے پہلی کتاب " مقدس وراثہ " کے نام سے شائع ہوئی اس کے سوا کوئی ٹھکانہ نہیں۔انتہائی یا نصیب ہیں جو اس کو تھی۔وہ بشری داؤد کی تحریمہ کہ وہ تھی۔جب تک یہ سلسلہ نہیں پاتے۔بد بخت ہیں جو اس کی محبت کو حاصل نہیں کرتے۔کتب کا چلتا رہے گا۔اس کا کام اور اس کا نام زنده میرے پیارے سے خدا ! تجھ کو تیری عظمت و کبریائی رہے گا اور اس کے لئے صدقہ جاریہ رہے گا۔کی قسم تو ان کو کبھی اپنے دامن سے جدا نہ کرنا۔انہیں ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء کے خطبہ جمعہ میں پیارے توفیق نہ دینا کہ یہ کبھی بھی تجھ سے تیرے احکامات حضور نے جیسی پیار سے اس کا ذکرہ فرمایا ہے وہ ہمیشہ سے تیری اطاعت سے انحراف کر سکیں اور ان کو ہمیش کے لئے تاریخ احمدیت میں زندہ جاوید ہو گئی ہے۔صرف اور صرف اپنے محبوب کی سچی محبت عطا خوش قسمت ہیں اور مبارک باد کے قابل ہیں وہ والدین کرنا۔تا کہ یہ اس کونیا میں بھی جنت حاصل کر جنہیں ایسی بیٹی عطا ہوئی جو اپنا اور اپنے والدین کا نام سکیں اور تیری رضا کے عطر سے ممسوح ہوں۔یہ دُنیا کے روشن ستارے ہوں اور نبی نوح روشن کی گئی۔اس کا انجام بخیر ہوا۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ لینہ کراچی کو نعم البدل انسان کے خادم عطا فرمائے۔اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھیں اور انہیں نمازہ باجماعت کا عادی بنائیں۔طالب دعا بشری دارد