حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 95

LLL طبعی حالتوں میں یہ فرق ہے کہ خلق ہمیشہ محل اور موقع کی پابندی اپنے ساتھ رکھتا ہے اور طبعی قوت بے محل بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۴۰ تا ۳۵۲) تمام م محققین کا اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ اخلاق کا کامل مرتبہ صرف اس میں منحصر نہیں ہوسکتا کہ ہر جگہ و ہر محل میں عفو اور درگز رکو اختیار کیا جائے۔اگر انسان کو صرف عفو اور درگذر کا ہی حکم دیا جاتا تو صد ہا کام کہ جو غضب اور انتقام پر موقوف ہیں فوت ہو جاتے۔انسان کی صورت فطرت کہ جس پر قائم ہونے سے وہ انسان کہلاتا ہے یہ ہے کہ خدا نے اس کی سرشت میں جیسا عفو اور درگذر کی استعداد رکھی ہے ایسا ہی غضب اور انتقام کی خواہش بھی رکھی ہے۔اور ان تمام قوتوں پر عقل کو بطور افسر کے مقرر کیا ہے۔پس انسان اپنی حقیقی انسانیت تک تب پہنچتا ہے کہ جب فطرتی صورت کے موافق یہ دونوں طور کی قوتیں عقل کی تابع ہو کر چلتی رہیں یعنی یہ قوتیں مثل رعایا کے ہوں اور عقل مثل بادشاہ عادل ان کی پرورش اور فیض رسانی اور رفع تنازعہ اور مشکل کشائی میں مشغول رہے۔مثلاً ایک وقت غضب نمودار ہوتا ہے اور حقیقت میں اس وقت حلم کے ظاہر ہونے کا موقعہ ہوتا ہے۔پس ایسے وقت میں عقل اپنی فہمائش سے غضب کو فرو کرتی ہے اور حلم کو حرکت دیتی ہے اور بعض وقت غضب کرنے کا وقت ہوتا ہے اور حلم پیدا ہو جاتا ہے اور ایسے وقت میں عقل غضب کو مشتعل کرتی ہے اور حلم کو درمیان سے اٹھا لیتی ہے۔خلاصہ یہ کہ تحقیق عمیق سے ثابت ہوا ہے کہ انسان اس دنیا میں بہت سی مختلف قوتوں کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور اس کا کمال فطرتی یہ ہے کہ ہر یک قوت کو اپنے اپنے موقعہ پر استعمال میں لاوے۔غضب کی جگہ پر غضب۔رحم کی جگہ پر رحم۔یہ نہیں کہ نرا حلم ہی حلم ہو اور دوسری تمام قوتوں کو معطل اور بیکار چھوڑ دے۔ہاں منجملہ تمام اندرونی قوتوں کے ، قوت حلم کو بھی اپنے موقعہ پر ظاہر کرنا ایک انسان کی خوبی ہے مگر انسان کی فطرت کا درخت جس کو خدا نے کئی شاخوں پر جو اس کی مختلف قوتیں ہیں منقسم کیا ہے۔صرف ایک شاخ کے سرسبز ہونے سے کامل نہیں کہلا سکتا بلکہ وہ اسی حالت میں کامل کہلائے گا کہ جب ساری شاخیں اس کی سرسبز و شاداب ہوں اور کوئی شاخ حد موزونیت سے کم یا زیادہ نہ ہو۔یہ بات بداہت عقل ثابت ہے کہ ہمیشہ اور ہر جگہ یہی خلق اچھا نہیں ہو سکتا کہ شریر کی شرارت سے در گزر کی جائے بلکہ خود قانون فطرت ہی اس خیال کا ناقص ہونا ظاہر کرتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مدبر حقیقی نے انتظام عالم اسی میں رکھا ہے جو کبھی نرمی اور کبھی درشتی کی جائے اور کبھی عفو اور کبھی سزا دی جائے اور اگر صرف نرمی ہی ہو یا صرف درشتی ہی ہو