حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 96

227 تو پھر نظام عالم کی گل ہی بگڑ جاتی ہے۔پس اس سے ثابت ہے کہ ہمیشہ اور ہرمحل میں عفو کر ناحقیقی نیکی نہیں ہے بلکہ ایسی تعلیم کو کامل تعلیم سمجھنا ایک غلطی ہے جو ان لوگوں کو لگی ہوئی ہے جن کی نگاہیں انسان کی فطرت کے پورے گہراؤ تک نہیں پہنچتیں اور جن کی نظر ان تمام قوتوں کے دیکھنے سے بند رہتی ہے جو انسان کو اپنے اپنے محل پر استعمال کرنے کے لئے عطا کی گئی ہیں جو شخص لگے تار جا بیجا ایک ہی قوت کو استعمال کئے جاتا ہے اور دوسری تمام اخلاقی قوتوں کو بیکار چھوڑ دیتا ہے وہ گویا اس فطرت کو جو خدا نے عطا کی ہے منقلب کرنا چاہتا ہے اور فعل حکیم مطلق کو اپنی کوتاہ فہمی سے قابل اعتراض ٹھہراتا ہے۔کیا یہ کچھ خوبی کی بات ہے کہ ہم ہر یک وقت بغیر لحاظ موقعہ ومصلحت اپنے گناہگاروں کے گناہوں سے درگذر کیا کریں اور کبھی اس قسم کی ہمدردی نہ کریں جس میں شریر کی شرارت کا علاج ہو کر آئندہ کو اس کی طبیعت سدھر جائے۔ظاہر ہے کہ جیسے بات بات میں سزا دینا اور انتقام لینا مذموم و خلاف اخلاق ہے اسی طرح یہ بھی خیر خواہی حقیقی کے برخلاف ہے کہ ہمیشہ یہی اصول ٹھہرایا جاوے کہ جب کبھی کسی سے کوئی مجرمانہ حرکت صادر ہو تو جھٹ پٹ اس کے جرم کو معاف کیا جائے۔جو شخص ہمیشہ مجرم کو سزا کے بغیر چھوڑ دیتا ہے وہ ایسا ہی نظام عالم کا دشمن ہے جیسے وہ شخص کہ ہمیشہ اور ہر حالت میں انتقام اور کینہ کشی پر مستعد رہتا ہے۔نادان لوگ ہر محل میں عفو اور درگذر کرنا پسند کرتے ہیں۔یہ نہیں سوچتے کہ ہمیشہ در گذر کرنے سے نظام عالم میں ابتری پیدا ہوتی ہے۔اور یہ فعل خود مجرم کے حق میں بھی مضر ہے کیونکہ اس سے اس کی بدی کی عادت پکتی جاتی ہے اور شرارت کا ملکہ راسخ ہوتا جاتا ہے۔ایک چور کو سزا کے بغیر چھوڑ دو۔پھر دیکھو کہ دوسری مرتبہ کیا رنگ دکھاتا ہے۔اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے اپنی اس کتاب میں جو حکمت سے بھری ہوئی ہے فرمایا۔وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيُوةٌ يَأُولِي الْأَلْبَابِ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا ، یعنی اے دانشمند و ! قاتل کے قتل کرنے اور موذی کی اسی قدر ایذا دینے میں تمہاری زندگی ہے جس نے ایک انسان کو ناحق بے موجب قتل کر دیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا۔اور ایسا ہی فرمایا۔إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَائِ ذِي الْقُرْبى ہے یعنی خدا حکم فرماتا ہے کہ تم عدل اور احسان اور ایتائے ذی القربیٰ اپنے اپنے محل پر کرو۔سو جاننا چاہئے کہ انجیل کی تعلیم اس کمال کے مرتبہ سے جس سے نظامِ عالم مربوط و مضبوط ہے تنزل و فروتر ہے اور اس تعلیم کو کامل خیال کرنا بھی بھاری غلطی ہے۔ایسی تعلیم البقرة: ١٨٠ المآئدة: ٣٣ التحل: ۹۱