حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 91

۷۷۳ اس فعل شنیع سے اپنے تئیں بچائے اور اگر باعث بچہ ہونے یا نامرد ہونے یا خوجہ ہونے یا پیر فرتوت ہونے کے یہ قوت اس میں موجود نہ ہو تو اس صورت میں ہم اس کو اس خلق سے جس کا نام اخصان یا عفت ہے موصوف نہیں کر سکتے۔خدا تعالیٰ نے خلق احصان یعنی عفت کے حاصل کرنے کے لئے صرف اعلی تعلیم ہی نہیں فرمائی بلکہ انسان کو پاک دامن رہنے کے لئے پانچ علاج بھی بتلا دیئے ہیں یعنی یہ کہ (۱) اپنی آنکھوں کو نامحرم پر نظر ڈالنے سے بچانا۔(۲) کانوں کو نامحرموں کی آواز سننے سے بچانا۔(۳) نامحرموں کے قصے نہ سننا (۴) اور دوسری تمام تقریبوں سے جن میں اس بد فعل کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے اپنے تئیں بچانا۔(۵) اگر نکاح نہ ہو تو روزہ رکھنا وغیرہ۔اس جگہ ہم بڑے دعوی کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ اعلی تعلیم ان سب تدبیروں کے ساتھ جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہیں صرف اسلام سے ہی خاص ہے۔دوسری قسم ترک شر کے اقسام میں سے وہ خُلق ہے جس کو امانت و دیانت کہتے ہیں یعنی دوسرے کے مال پر شرارت اور بد نیتی سے قبضہ کر کے اس کو ایذا پہنچانے پر راضی نہ ہونا۔سو واضح ہو کہ دیانت اور امانت انسان کی طبعی حالتوں میں سے ایک حالت ہے۔اسی واسطے ایک بچہ شیر خوار بھی جو بوجہ کم سنی اپنی طبعی سادگی پر ہوتا ہے اور نیز باعث صغرسنی ابھی بُری عادتوں کا عادی نہیں ہوتا۔اس قدر غیر کی چیز سے نفرت رکھتا ہے کہ غیر عورت کا دودھ بھی مشکل سے پیتا ہے۔اگر بے ہوشی کے زمانہ میں کوئی اور دا یہ مقرر نہ ہو تو ہوش کے زمانہ میں اس کو دوسرے کا دودھ پلانا نہایت مشکل ہو جاتا ہے اور اپنی جان پر بہت تکلیف اٹھاتا ہے اور ممکن ہے اس تکلیف سے مرنے کے قریب ہو جائے مگر دوسری عورت کے دودھ سے طبعا بیزار ہوتا ہے اس قدر نفرت کا کیا بھید ہے؟ بس یہی کہ وہ والدہ کو چھوڑ کر غیر کی چیز کی طرف رجوع کرنے سے طبعا متنفر ہے۔اب ہم جب ایک گہری نظر سے بچہ کی اس عادت کو دیکھتے اور اس پر غور کرتے ہیں اور فکر کرتے کرتے اس کی اس عادت کی تہ تک چلے جاتے ہیں تو ہم پر صاف کھل جاتا ہے کہ یہ عادت جو غیر کی چیز سے اس قدر نفرت کرتا کہ اپنے اوپر مصیبت ڈال لیتا ہے یہی جڑھ دیانت اور امانت کی ہے اور دیانت کے خلق میں کوئی شخص راستباز نہیں ٹھہر سکتا جب تک بچہ کی طرح غیر کے مال کے بارے میں بھی بچی نفرت اور کراہت اس کے دل میں پیدا نہ ہو جائے لیکن بچہ اس عادت کو اپنے محل پر استعمال نہیں کرتا اور اپنی بے وقوفی کے سبب سے بہت کچھ تکلیفیں اٹھا لیتا ہے۔لہذا اس کی یہ عادت صرف ایک حالت طبعی ہے جس کو وہ بے اختیار ظاہر کرتا ہے۔اس لئے وہ حرکت اُس کے خلق میں