حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 90

۷۷۲ جب یہ تمام طبعی حالتیں عقل اور تدبر کے مشورہ سے اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر کی جائیں گی تو سب کا نام اخلاق ہوگا اور یہ تمام اخلاق در حقیقت انسان کی طبعی حالتیں اور طبعی جذبات ہیں اور صرف اس وقت اخلاق کے نام سے موسوم ہوتے ہیں کہ جب محل اور موقعہ کے لحاظ سے بالا رادہ اُن کو استعمال کیا جائے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۳۳) جاننا چاہئے کہ اخلاق دو قسم کے ہیں۔اول وہ اخلاق جن کے ذریعہ سے انسان ترک شر پر قادر ہوتا ہے۔دوسرے وہ اخلاق جن کے ذریعہ سے انسان ایصال خیر پر قادر ہوتا ہے اور ترک شہر کے مفہوم میں وہ اخلاق داخل ہیں جن کے ذریعہ سے انسان کوشش کرتا ہے کہ تا اپنی زبان یا اپنے ہاتھ یا اپنی آنکھ یا اپنے کسی اور عضو سے دوسرے کے مال یا عزت یا جان کو نقصان نہ پہنچاوے یا نقصان رسانی اور کسر شان کا ارادہ نہ کرے اور ایصالِ خیر کے مفہوم میں تمام وہ اخلاق داخل ہیں جن کے ذریعے سے انسان کوشش کرتا ہے کہ اپنی زبان یا اپنے ہاتھ یا اپنے مال یا اپنے علم یا کسی اور ذریعہ سے دوسرے کے مال یا عزت کو فائدہ پہنچا سکے۔یا اس کے جلال یا عزت ظاہر کرنے کا ارادہ کر سکے یا اگر کسی نے اس پر کوئی ظلم کیا تھا تو جس سزا کا وہ ظالم مستحق تھا اُس سے در گزر کر سکے اور اِس طرح اُس کو دُکھ اور عذاب بدنی اور تاوان مالی سے محفوظ رہنے کا فائدہ پہنچا سکے یا اس کو ایسی سزا دے سکے جو حقیقت میں اس کے لئے سراسر رحمت ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۳۹ ،۳۴۰) واضح ہو کہ وہ اخلاق جو ترک شر کے لئے صانع حقیقی نے مقرر فرمائے ہیں وہ زبان عربی میں جو تمام انسانی خیالات اور اوضاع اور اخلاق کے اظہار کے لئے ایک ایک مفرد لفظ اپنے اندر رکھتی ہے۔چار ناموں سے موسوم ہیں۔چنانچہ پہلا خلق احصان کے نام سے موسوم ہے اور اس لفظ سے مراد خاص وہ پاکدامنی ہے جو مرد اور عورت کی قوت تناسل سے علاقہ رکھتی ہے اور مُحْصِنُ یا مُحْصِنَہ اس مرد یا اس عورت کو کہا جائے گا جو حرام کاری یا اس کے مقدمات سے مجتنب رہ کر اس ناپاک بدکاری سے اپنے تئیں روکیں جس کا نتیجہ دونوں کے لئے اس عالم میں ذلت اور لعنت اور دوسرے جہان میں عذاب آخرت اور متعلقین کے لئے علاوہ بے آبروئی نقصان شدید ہے۔اس جگہ یادر ہے کہ یہ خلق جس کا نام احصان یا عفت ہے یعنی پاکدامنی یہ اُسی حالت میں خلق کہلائے گا جبکہ ایسا شخص جو بد نظری یا بدکاری کی استعداد اپنے اندر رکھتا ہے۔یعنی قدرت نے وہ قومی اس کو دے رکھے ہیں جن کے ذریعہ سے اس جرم کا ارتکاب ہو سکتا ہے۔