حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 89

اس کے اندر سے کسی تحریک سے باہر آتے ہیں وہ سب کے سب بُرے نہ ہوں بلکہ بعض اُن کے نیک اخلاق سے مشابہ ہوں لیکن عاقلانہ تدبر اور موشگافی کو اُن میں دخل نہیں ہوتا اور اگر کسی قدر ہو بھی تو وہ بوجہ غلبہ جذبات طبعی کے قابل اعتبار نہیں ہوتا بلکہ جس طرف کثرت ہے اسی طرف کو معتبر سمجھا جائے گا۔غرض ایسے شخص کی طرف حقیقی اخلاق منسوب نہیں کر سکتے جس پر جذبات طبعیہ حیوانوں اور بچوں اور دیوانوں کی طرح غالب ہیں اور جو اپنی زندگی کو قریب قریب وحشیوں کے بسر کرتا ہے بلکہ حقیقی طور پر نیک یا بد اخلاق کا زمانہ اس وقت سے شروع ہوتا ہے کہ جب انسان کی عقل خدا داد پختہ ہو کر اس کے ذریعہ سے نیکی اور بدی یا دو بدیوں یا دو نیکیوں کے درجہ میں فرق کر سکے۔پھر اچھے راہ کے ترک کرنے سے اپنے دل میں ایک حسرت پاوے اور بُرے کام کے ارتکاب سے اپنے تئیں نادم اور پشیمان دیکھے یہ انسان کی زندگی کا دوسرا زمانہ ہے جس کو خدا کے پاک کلام قرآن شریف میں نفس لوامہ کے نام سے تعبیر کیا ہے مگر یاد رہے کہ ایک وحشی کو نفس لوامہ کی حالت تک پہنچانے کے لئے صرف سرسری نصائح کافی نہیں ہوتیں بلکہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کو خدا شناسی کا اس قدر حصہ ملے جس سے وہ اپنی پیدائش بے ہودہ اور عبث خیال نہ کرے تا معرفت الہی سے بچے اخلاق اُس میں پیدا ہوں اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ساتھ ساتھ بچے خدا کی معرفت کے لئے توجہ دلائی ہے اور یقین دلایا ہے کہ ہر ایک عمل اور خلق ایک نتیجہ رکھتا ہے جو اُس زندگی میں روحانی راحت یا روحانی عذاب کا موجب ہوتا ہے اور دوسری زندگی میں گھلے گھلے طور پر اپنا اثر دکھائے گا۔غرض نفس لوامہ کے درجہ پر انسان کو عقل اور معرفت اور پاک کانشنس سے اِس قد رحصہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ بُرے کام پر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے اور نیک کام کا خواہشمند اور حریص رہتا ہے۔یہ وہی درجہ ہے کہ جس میں انسان اخلاق فاضلہ حاصل کرتا ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۳۰ تا ۳۳۲) اللہ جل شانہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ یعنی تو ایک بزرگ خلق پر قائم ہے۔سو اسی تشریح کے مطابق اس کے معنے ہیں۔یعنی یہ کہ تمام قسمیں اخلاق کی سخاوت، شجاعت، عدل، رحم، احسان، صدق، حوصلہ وغیرہ تجھ میں جمع ہیں۔غرض جس قدر انسان کے دل میں قو تیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ادب، حیا، دیانت، مروت، غیرت، استقامت، عفت، زہادت ، اعتدال، مواسات یعنی ہمدردی ایسا ہی شجاعت، سخاوت ،عفو، صبر، احسان، صدق وفا وغیرہ القلم: ۵