حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 75

۷۵۷ سے خدا کی معرفت اور خدا کی پرستش اور خدا کی محبت ہے۔اسی وجہ سے انسان دنیا میں ہزاروں شغلوں کو اختیار کر کے پھر بھی بجز خدا کے اپنی بچی خوشحالی کسی میں نہیں پاتا بڑا دولتمند ہو کر بڑا عہدہ پا کر بڑا تاجر بن کر بڑی بادشاہی تک پہنچ کر بڑا فلاسفر کہلا کر آخران دنیوی گرفتاریوں سے بڑی حسرتوں کے ساتھ جاتا ہے اور ہمیشہ دل اس کا دنیا کے استغراق سے اس کو ملزم کرتا رہتا ہے اور اس کے مکروں اور فریبوں اور نا جائز کاموں میں کبھی اس کا کانشنس اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ایک دانا انسان اس مسئلہ کو اس طرح بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس چیز کے قومی ایک اعلیٰ سے اعلیٰ کام کر سکتے ہیں اور پھر آگے جا کر ٹھہر جاتے ہیں وہی اعلیٰ کام اس کی پیدائش کی علت غائی سمجھی جاتی ہے مثلاً بیل کا کام اعلیٰ سے اعلیٰ قلبہ رانی یا آب پاشی یا بار برداری ہے اس سے زیادہ اس کی قوتوں میں کچھ ثابت نہیں ہوا۔سو بیل کی زندگی کا مدعا یہی تین چیزیں ہیں اس سے زیادہ کوئی قوت اس میں پائی نہیں جاتی مگر جب ہم انسان کی قوتوں کو ٹو لتے ہیں کہ اُن میں اعلیٰ سے اعلیٰ کون سی قوت ہے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ خدائے اعلیٰ برتر کی اُس میں تلاش پائی جاتی ہے۔یہاں تک کہ وہ چاہتا ہے کہ خدا کی محبت میں ایسا گداز اور محو ہو کہ اُس کا اپنا کچھ بھی نہ رہے سب خدا کا ہو جائے۔وہ کھانے اور سونے وغیرہ طبعی امور میں دوسرے حیوانات کو اپنا شریک غالب رکھتا ہے۔صنعت کاری میں بعض حیوانات اس سے بہت بڑھے ہوئے ہیں بلکہ شہد کی مکھیاں بھی ہر ایک پھول کا عطر نکال کر ایسا شہد نفیس پیدا کرتی ہیں کہ اب تک اس صنعت میں انسان کو کامیابی نہیں ہوئی پس ظاہر ہے کہ انسان کا اعلیٰ کمال خدا تعالیٰ کا وصال ہے لہذا اس کی زندگی کا اصل مدعا یہی ہے کہ خدا کی طرف اس کے دل کی کھڑ کی کھلے۔ہاں اگر یہ سوال ہو کہ یہ مدعا کیونکر اور کس طرح حاصل ہوسکتا ہے اور کن وسائل سے انسان اس کو پا سکتا ہے؟ پس واضح ہو کہ سب سے بڑا وسیلہ جو اس مدعا کے پانے کے لئے شرط ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو صحیح طور پر پہچانا جائے اور نچے خدا پر ایمان لایا جائے کیونکہ اگر پہلا قدم ہی غلط ہے اور کوئی شخص مثلاً پرند یا چرند یا عناصر یا انسان کے بچہ کو خدا سمجھ بیٹھا ہے تو پھر دوسرے قدموں میں اُس کے راہ راست پر چلنے کی کیا امید ہے۔سچا خدا اس کے ڈھونڈنے والوں کو مدد دیتا ہے مگر مُردہ مُردہ کو کیونکر مدد دے سکتا ہے۔اس میں اللہ جل شانہ نے خوب تمثیل فرمائی ہے اور وہ یہ ہے۔لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ وَ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَجِيْبُونَ لَهُمُ بِشَئُ إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهَ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهِ وَمَا دُعَاءُ الْكَفِرِينَ إِلَّا فِي ضَللٍ يا یعنی دعا کرنے کے لائق وہی سچا خدا ہے جو الرعد: ۱۵