حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 76

۷۵۸ ہر ایک بات پر قادر ہے اور جو لوگ اس کے سوا اوروں کو پکارتے ہیں وہ کچھ بھی ان کو جواب نہیں دے سکتے۔اُن کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی پانی کی طرف ہاتھ پھیلا دے کہ اے پانی میرے منہ میں آ جا تو کیا وہ اس کے منہ آ جائے گا؟ ہر گز نہیں سو جو لوگ بچے خدا سے بے خبر ہیں اُن کی تمام دعا ئیں باطل ہیں۔دوسرا وسیلہ خدا تعالیٰ کے اُس حسن و جمال پر اطلاع پانا ہے جو باعتبار کمال تام کے اُس میں پایا جاتا ہے کیونکہ حسن ایک ایسی چیز ہے جو بالطبع دل اس کی طرف کھینچا جاتا ہے اور اُس کے مشاہدہ سے طبعا محبت پیدا ہوتی ہے۔تو حسن باری تعالیٰ اس کی وحدانیت اور اُس کی عظمت اور بزرگی اور صفات ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف نے یہ فرمایا ہے۔قُل هُوَ اللهُ اَحَدٌ۔اللهُ الصَّمَدُ۔لَمْ يَلِدْ وَلَم يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدُلے یعنی خدا اپنی ذات اور صفات اور جلال میں ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔سب اس کے حاجت مند ہیں۔ذرہ ذرہ اس سے زندگی پاتا ہے۔وہ کل چیزوں کے لئے مبدء فیض ہے اور آپ کسی سے فیضیاب نہیں۔وہ نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کسی کا باپ۔اور کیونکر ہو کہ اس کا کوئی ہم ذات نہیں۔قرآن نے بار بار خدا کا کمال پیش کر کے اور اس کی عظمتیں دکھلا کے لوگوں کو توجہ دلائی ہے کہ دیکھو ایسا خدا دلوں کا مرغوب ہے نہ کہ مردہ اور کمزور اور کم رحم اور کم قدرت۔تیسرا وسیلہ جو مقصود حقیقی تک پہنچنے کے لئے دوسرے درجہ کا زینہ ہے خدا تعالیٰ کے احسان پر اطلاع پانا ہے کیونکہ محبت کی محرک دو ہی چیزیں ہیں حسن یا احسان اور خدا تعالیٰ کی احسانی صفات کا خلاصہ سورۃ فاتحہ میں پایا جاتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ مُلِكِ يَوْمِ الدِينِ ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ احسان کامل اس میں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو محض نابود سے پیدا کرے اور پھر ہمیشہ اُس کی ربوبیت ان کے شامل حال ہو اور وہی ہر ایک چیز کا آپ سہارا ہو اور پھر اس کی تمام قسم کی رحمتیں اس کے بندوں کے لئے ظہور میں آئی ہوں اور اس کا احسان بے انتہا ہو جس کا کوئی شمار نہ کر سکے۔سو ایسے احسانوں کو خدا تعالیٰ نے بار بار جتلایا ہے جیسا کہ ایک اور جگہ فرماتا ہے۔وان تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا کے یعنی اگر خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ہر گز گن نہ سکو گے۔چوتھا وسیلہ خدا تعالیٰ نے اصل مقصود کو پانے کے لئے دعا کو ٹھہرایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے اُدعُوتی اسْتَجِبْ لَكُمْ ہے یعنی تم دعا کرو میں قبول کروں گا اور بار بار دعا کے لئے رغبت دلائی ہے تا انسان اپنی طاقت سے نہیں بلکہ خدا کی طاقت سے پاوے۔الاخلاص: ۲ تا ۵ الفاتحة: ۲ تام ابراهیم: ۳۵ المؤمن: ٦١