حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 70

۷۵۲ پیرایوں میں بیان کیا گیا ہے۔منجملہ ان کے ایک یہ بھی پیرا یہ ہے کہ میت عبد صالح کے لئے قبر میں جنت کی طرف ایک کھڑ کی کھولی جاتی ہے جس کی راہ سے وہ جنت کی باغ و بہار دیکھتا ہے اور اس کی دلر ہا ہوا سے متمتع ہوتا ہے اور اس کھڑکی کی کشادگی بحسب مرتبہ ایمان و عمل اس میت کے ہوتی ہے لیکن ساتھ اس کے یہ بھی لکھا ہے کہ جو لوگ ایسے فنا فی اللہ ہونے کی حالت میں دنیا سے جُدا ہوتے ہیں کہ اپنی جان عزیز کو محبوب حقیقی کی راہ میں فدا کر دیتے ہیں جیسے شہداء یا وہ صدیق لوگ جو شہداء سے بھی بڑھ کر آگے قدم رکھتے ہیں اُن کے لئے اُن کی موت کے بعد صرف بہشت کی طرف کھڑ کی ہی نہیں کھولی جاتی بلکہ وہ اپنے سارے وجود اور تمام قومی کے ساتھ بہشت میں داخل ہو جاتے ہیں مگر پھر بھی قیامت کے دن سے پہلے اکمل اور اتم طور پر لذات جنت حاصل نہیں کر سکتے۔ایسا ہی اس درجہ میں میت خبیث کے لئے دوزخ کی طرف قبر میں ایک کھڑ کی کھولی جاتی ہے جس کی راہ سے دوزخ کی ایک جلانے والی بھاپ آتی رہتی ہے اور اس کے شعلوں سے ہر وقت وہ خبیث روح جلتی رہتی ہے۔لیکن ساتھ اس کے یہ بھی ہے کہ جو لوگ اپنی کثرت نافرمانی کی وجہ سے ایسے فنافی الشیطان ہونے کی حالت میں دنیا سے جدا ہوتے ہیں کہ شیطان کی فرمانبرداری کی وجہ سے بکلّی تعلقات اپنے مولی حقیقی سے توڑ دیتے ہیں اُن کے لئے اُن کی موت کے بعد صرف دوزخ کی طرف کھڑکی ہی نہیں کھولی جاتی بلکہ وہ اپنے سارے وجود اور تمام قومی کے ساتھ خاص دوزخ میں ڈال دیئے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔مِمَّا خَطَيَّتِهُم أُغْرِقُوا فَادْ خِلُوا نَارًا - سورة نوح - مگر پھر بھی وہ لوگ قیامت کے دن سے پہلے اکمل اور اتم طور پر عقوبات جہنم کا مزہ نہیں چکھتے۔دوسرا درجہ۔پھر اس درجہ سے اوپر جو ابھی ہم نے بہشتیوں اور دوزخیوں کے لئے بیان کیا ہے ایک اور درجہ دخول جنت۔دخول جہنم ہے جس کو درمیانی درجہ کہنا چاہئے اور وہ حشر اجساد کے بعد جنت عظمی یا جہنم کبری میں داخل ہونے سے پہلے حاصل ہوتا ہے اور بوجہ تعلق جسد کامل قومی میں ایک اعلیٰ درجہ کی تیزی پیدا ہو کر اور خدائے تعالیٰ کی تجلی رحم یا تجلی قہر کا حسب حالت اپنے کامل طور پر مشاہدہ ہو کر اور جنت عظمیٰ کو بہت قریب پا کر یا جہنم کبری کو بہت ہی قریب دیکھ کر وہ لذات یا عقوبات ترقی پذیر ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ اللہ جل شانہ آپ فرماتا ہے۔وَاز لِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ۔وَبُرِزَتِ الْجَحِيم لِلْغُوِينَ وَجُوهٌ يَوْمَبِذٍ مُسْفِرَةٌ۔ضَاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ۔وَوُجُوهٌ يَوْمَبِذٍ عَلَيْهَا نوح: ۲۶ الشعراء: ۹۲۹۱