حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 69
۷۵۱ مرنے کے بعد ایک جسم ملتا ہے۔اسی وجہ سے تمام ائمہ اور اکابر متصوفین اس بات کے قائل ہیں کہ مومن جو طیب اور مطہر ہوتے ہیں وہ بجر دفوت ہونے کے ایک پاک اور نورانی جسم پاتے ہیں جس کے ذریعہ سے وہ نعماء جنت سے لذت اُٹھاتے ہیں اور بہشت کو صرف شہیدوں کے لئے مخصوص کرنا ایک ظلم ہے بلکہ ایک کفر ہے۔کیا کوئی سچا مومن یہ گستاخی کا کلمہ زبان پر لاسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ابھی تک بہشت سے باہر ہیں جن کے روضہ کے نیچے بہشت ہے مگر وہ لوگ جنہوں نے آپ کے ذریعہ سے ایمان اور تقویٰ کا مرتبہ حاصل کیا وہ شہید ہونے کی وجہ سے بہشت میں داخل ہیں اور بہشتی میوے کھا رہے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ جس نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کو وقف کر دیا وہ شہید ہو چکا۔پس اس صورت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اول الشہداء ہیں۔ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۸۸ تا ۳۹۰) اس جگہ بظاہر یہ اعتراض لازم آتا ہے کہ جب کہ ہر ایک مومن طیب اور طاہر جن کی گردن پر کوئی بوجھ گناہ اور معاصی کا نہیں بلا تو قف بہشت میں داخل ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں حشر اجساد اور اس کے تمام لوازم متعلقہ سے انکار لازم آتا ہے کیونکہ جبکہ بہشت میں داخل ہو چکے تو پھر بموجب آیت وَمَاهُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِینَ لے ان کا بہشت سے نکلنا ممتنع ہے۔پس اس سے تمام کارخانہ حشر اجساد و واقعات معاد کا باطل ہوا۔اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا عقیدہ جو مومنین مطہرین بلا تو قف بہشت میں داخل ہو جاتے ہیں یہ میری طرف سے نہیں بلکہ یہی عقیدہ ہے جس کی قرآن شریف نے تعلیم دی ہے اور دوسری تعلیم جو قرآن شریف میں ہے جو حشر اجساد ہوگا اور مردے زندہ ہوں گے وہ بھی حق ہے اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں صرف فرق یہ ہے کہ یہ بہشت میں داخل ہونا صرف اجمالی رنگ میں ہے اور اس صورت میں جو مومنوں کو مرنے کے بعد بلا توقف اجسام دیئے جاتے ہیں وہ اجسام ابھی ناقص ہیں مگر حشر اجساد کا دن تجلی اعظم کا دن ہے۔اس دن کامل اجسام ملیں گے اور بہشتیوں کا تعلق کسی حالت میں بہشت سے الگ نہیں ہوگا۔من وجہ وہ بہشت میں ہوں گے اور من وجہ خدا تعالیٰ کے سامنے آئیں گے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۸۷ حاشیہ) جنت اور جہنم تین درجوں پر منقسم ہے۔پہلا درجہ جو ایک ادنیٰ درجہ ہے اس وقت سے شروع ہوتا ہے کہ جب انسان اس عالم سے رخصت ہو کر اپنی خواب گاہ قبر میں جا لیٹتا ہے۔اور اس درجہ ضعیفہ کو استعارہ کے طور پر احادیث نبویہ میں کئی الحجر : ۴۹