حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 68

۷۵۰ نافرمان کے لئے موجب عذاب ہو جاتی ہے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک باغ ہے جو ایک نہر کے پانی سے سرسبز اور شاداب ہوتا تھا اور جب باغ والوں نے نہر کے مالک کی اطاعت چھوڑ دی تو مالک نہر نے اس باغ کو اپنے نہر کے پانی سے محروم کر دیا اور بند لگا دیا۔تب باغ خشک ہو گیا۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۶۲ ۶۳) یہ بات نہایت نامعقول اور خدائے عزّ و جلّ کے صفات کاملہ کے برخلاف ہے کہ دوزخ میں ڈالنے کے بعد ہمیشہ اس کی صفات قہر یہ ہی جلوہ گر ہوتی رہیں اور کبھی صفت رحم اور عفو کی جوش نہ مارے اور صفات کرم اور رحم کے ہمیشہ کے لئے معطل کی طرح رہیں بلکہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مدت دراز تک جس کو انسانی کمزوری کے مناسب حال استعارہ کے رنگ میں ابد کے نام سے موسوم کیا گیا ہے دوزخی دوزخ میں رہیں گے اور پھر صفت رحم اور کرم تجلی فرمائے گی اور خدا اپنا ہاتھ دوزخ میں ڈالے گا اور جس قد ر خدا کی مٹھی میں آجائیں گے سب دوزخ سے نکالے جائیں گے۔پس اس حدیث میں بھی آخر کا رسب کی نجات کی طرف اشارہ ہے کیونکہ خدا کی مٹھی خدا کی طرح غیر محدود ہے جس سے کوئی بھی باہر نہیں رہ سکتا۔(چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۶۹) بہت سے مقامات ہیں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ارواح طیبیین مطہرین کے بجر دفوت ہونے کے بہشت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ایسا ہی بہت سی احادیث سے یہی مطلب ثابت ہوتا ہے اور ارواح شہداء کا بہشت کے میودے کھانا یہ تو ایسی مشہور حدیثیں ہیں کہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہیں اور خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے۔وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَا عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ے یعنی جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں مارے جاتے ہیں اُن کی نسبت یہ گمان مت کرو کہ وہ مُردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں۔خدائے تعالیٰ سے ان کو رزق ملتا ہے اور کتب سابقہ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔پس جبکہ ارواح طیبین مطہرین کا بہشت میں داخل ہونا ثابت ہے اور ظاہر ہے کہ بہشت وہ مقام ہے جس میں انواع اقسام کی جسمانی نعماء بھی ہوں گی اور طرح طرح کے میوے ہوں گے اور بہشت میں داخل ہونے کے یہی معنے ہیں کہ وہ نعمتیں کھاوے اس صورت میں صرف روح کا بہشت میں داخل ہونا بے معنی اور بے سود ہے۔کیا وہ بہشت میں داخل ہو کر ایک محروم کی طرح بیٹھی رہے گی اور بہشت کی نعمتوں سے فائدہ نہیں اُٹھائے گی ؟ پس آیت وَادْخُلِی جَنَّتی صاف بتلا رہی ہے کہ مومن کو يس : ۲۷ الفجر: ٣١