حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 62

۷۴۴ جاتے ہیں مگر اس عالم میں محسوس اور مشاہد ہوں گے۔یہی وجہ ہے کہ لکھا ہے کہ جب بہشتی ان انعامات سے بہرہ ور ہوں گے تو یہ کہیں گے هذَا الَّذِی رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأَتُوْا بِهِ مُتَشَابِهَا ، اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ دنیا میں جو دودھ یا شہر یا انگور انار وغیرہ چیزیں ہم کھاتے پیتے ہیں وہی وہاں ملیں گی۔نہیں! وہ چیزیں اپنی نوعیت اور حالت کے لحاظ سے بالکل اور کی اور ہوں گی۔ہاں صرف نام کا اشتراک پایا جاتا ہے اور اگر چہ ان تمام نعمتوں کا نقشہ جسمانی طور پر دکھایا گیا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ بتا دیا گیا ہے کہ وہ چیزیں روح کو روشن کرتی ہیں اور خدا کی معرفت پیدا کرنے والی ہیں ان کا سر چشمہ روح اور راستی ہے۔رُزِقْنَا مِن قَبْلُ سے یہ مراد لینا کہ وہ دنیا کی جسمانی نعمتیں ہیں۔بالکل غلط ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا منشاء اس آیت میں یہ ہے کہ جن مومنوں نے اعمال صالحہ کئے انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک بہشت بنایا جس کا پھل وہ اُس دوسری زندگی میں بھی کھائیں گے اور وہ پھل چونکہ روحانی طور پر دنیا میں بھی کھا چکے ہوں گے۔اس لئے اُس عالم میں اس کو پہچان لیں گے اور کہیں گے یہ تو وہی پھل معلوم ہوتے ہیں اور یہ وہی روحانی ترقیاں ہوتی ہیں جو دنیا میں کی ہوتی ہیں اس لئے وہ عابد و عارف اُن کو پہچان لیں گے۔میں پھر صاف کر کے کہنا چاہتا ہوں کہ جہنم اور بہشت میں ایک فلسفہ ہے جس کا رابط با ہم اسی طرح پر قائم ہوتا ہے جو میں نے ابھی بتایا ہے مگر اس بات کو کبھی بھی بھولنا نہیں چاہئے کہ دنیا کی سزائیں تنبیہ اور عبرت کے لئے انتظامی رنگ کی حیثیت سے ہیں۔سیاست اور رحمت دونوں باہم ایک رشتہ رکھتی ہیں اور اسی رشتہ کے اظلال یہ سزائیں اور جزا ئیں ہیں۔انسانی افعال اور اعمال اسی طرح پر محفوظ اور بند ہوتے جاتے ہیں جیسے فونوگراف میں آواز بند کی جاتی ہے۔جب تک انسان عارف نہ ہو اس سلسلہ پر غور کر کے کوئی لذت اور فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔الحکم مورخه ارجنوری ۱۹۰۲ء صفحه ۴ تا ۶ - ملفوظات جلد دوم صفحه ۱۹ تا ۲۱ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) عذاب ایک سلبی چیز ہے کیونکہ راحت کی نفی کا نام عذاب ہے اور نجات ایک ایجابی چیز ہے یعنی راحت اور خوشحالی کے دوبارہ حاصل ہو جانے کا نام نجات ہے۔پس جیسا کہ ظلمت عدم وجود روشنی کا نام ہے ایسا ہی عذاب عدم وجود خوشحالی کا نام ہے۔مثلاً بیماری اس حالت کا نام ہے کہ جب حالت بدن مجری طبیعت پر نہ رہے اور صحت اس حالت کا نام ہے کہ جب امور طبعیہ اپنی اصلی حالات کی طرف عود کر یں۔سو جب انسان کی روحانی حالت مجری طبیعی سے ادھر اُدھر کھسک جائے اسی اختلال کا نام عذاب ہے اور البقرة: ٢٦