حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 628
۱۳۱۰ ان کو کچھ خوف نہیں اور نہ کچھ غم۔خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو میری طرف سے نذیر ہے۔میں نے تجھے بھیجا تا مجرم نیکو کاروں سے الگ کئے جائیں اور فرمایا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔میں تجھے اس قدر برکت دوں گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور آئندہ زلزلہ کی نسبت جو ایک سخت زلزلہ ہوگا مجھے خبر دی اور فرمایا :۔پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔اس لئے ایک شدید زلزلہ کا آنا ضروری ہے۔لیکن راستباز اس سے امن میں ہیں۔سوراستباز بنو! اور تقویٰ اختیار کرو! تا بیچ جاؤ۔آج خدا سے ڈرو تا اس دن کے ڈر سے امن میں رہو۔ضرور ہے کہ آسمان کچھ دکھاوے اور زمین کچھ ظاہر کرے لیکن خدا سے ڈرنے والے بچائے جائیں گے۔خدا کا کلام مجھے فرماتا ہے کہ کئی حوادث ظاہر ہوں گے اور کئی آفتیں زمین پر اتریں گی۔کچھ تو ان میں سے میری زندگی میں ظہور میں آجائیں گی اور کچھ میرے بعد ظہور میں آئیں گی۔اور وہ اس سلسلہ کو پوری ترقی دے گا کچھ میرے ہاتھ سے اور کچھ میرے بعد۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَ آنَا وَ رُسُلِی اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے۔لیکن اس کی پوری تکمیل اُن کے ہاتھ سے نہیں کرتا۔بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے۔اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر نا تمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔(۱) اوّل خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے (۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا المجادلة: ٢٢