حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 627
۱۳۰۹ (ترجمہ) تیری اجل قریب آگئی ہے اور ہم تیرے متعلق ایسی باتوں کا نام و نشان نہیں چھوڑیں گے جن کا ذکر تیری رسوائی کا موجب ہو۔تیری نسبت خدا کی میعاد مقررہ تھوڑی رہ گئی ہے اور ہم ایسے تمام اعتراض دور اور دفع کر دیں گے اور کچھ بھی اُن میں سے باقی نہیں رکھیں گے۔جن کے بیان سے تیری رسوائی مطلوب ہو۔اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو کچھ مخالفوں کی نسبت ہماری پیشگوئیاں ہیں ان میں سے تجھے کچھ دکھاویں یا تجھے وفات دے دیں تو اس حالت میں فوت ہو گا جو میں تجھ سے راضی ہوں گا۔اور ہم کھلے کھلے نشان تیری تصدیق کے لئے ہمیشہ موجود رکھیں گے۔جو وعدہ کیا گیا وہ قریب ہے اپنے رب کی نعمت کا جو تیرے پر ہوئی لوگوں کے پاس بیان کر۔جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے تو خدا ایسے نکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اس جگہ یادر ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ہم تیری نسبت ایسے ذکر باقی نہیں چھوڑیں گے جو تیری رسوائی اور ہتک عزت کا موجب ہوں اس فقرہ کے دو معنے ہیں (۱) اول یہ کہ ایسے اعتراضات کو جو رسوا کرنے کی نیت سے شائع کئے جاتے ہیں ہم دُور کر دیں گے۔اور اُن اعتراضات کا نام ونشان نہ رہے گا۔(۲) دوسرے یہ کہ ایسے شکایت کرنے والوں کو جو اپنی شرارتوں کو نہیں چھوڑتے اور بدذکر سے باز نہیں آتے دنیا سے اٹھا لیں گے اور صفحہ ہستی سے معدوم کر دیں گے تب ان کے نابود ہونے کی وجہ سے ان کے بے ہودہ اعتراض بھی نابود ہو جائیں گے۔پھر بعد اس کے خدا تعالیٰ نے میری وفات کی نسبت اردو زبان میں مندرجہ ذیل کلام کے ساتھ مجھے مخاطب کر کے فرمایا:۔بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔اُس دن سب پر اداسی چھا جائے گی۔یہ ہو گا۔یہ ہو گا۔یہ ہو گا۔بعد اس کے تمہارا واقعہ ہو گا۔تمام حوادث اور عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا۔حوادث کے بارے میں جو مجھے علم دیا گیا وہ یہی ہے کہ ہر ایک طرف دنیا میں موت اپنا دامن پھیلائے گی اور زلزلے آئیں گے اور شدت سے آئیں گے اور قیامت کا نمونہ ہوں گے اور زمین کو تہ و بالا کر دیں گے اور بہتوں کی زندگی تلخ ہو جائے گی۔پھر وہ جو تو بہ کریں گے اور گناہوں سے دستکش ہو جائیں گے خدا ان پر رحم کرے گا۔جیسا کہ ہر ایک نبی نے اس زمانہ کی خبر دی تھی ضرور ہے کہ وہ سب کچھ واقع ہو لیکن وہ جو اپنے دلوں کو درست کر لیں گے اور ان راہوں کو اختیار کریں گے جو خدا کو پسند ہیں۔