حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 626
۱۳۰۸ لاکھوں مساجد میں جمع ہوتے ہیں کیا یہ بُرے ہیں؟ مگر خدا کثرت کو نہیں دیکھتا۔وہ دلوں کو دیکھتا ہے۔خدا کے خاص بندوں میں محبت الہی اور صدق اور وفا کا ایک ایسا خاص نور ہوتا ہے کہ اگر میں بیان کر سکتا تو بیان کرتا لیکن میں کیا بیان کروں جب سے دنیا ہوئی اس راز کو کوئی نبی یا رسول بیان نہیں کر سکا۔خدا کے باوفا بندوں کی اس طور سے آستانہ الہی پر روح گرتی ہے کہ کوئی لفظ ہمارے پاس نہیں کہ اس کیفیت کو دکھلا سکے۔تذكرة الشهادتين - روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ا۷ ۷۲ ) مخالف چاہتے ہیں کہ میں نابود ہو جاؤں اور ان کا کوئی ایسا داؤ چل جائے کہ میرا نام ونشان نہ رہے مگر وہ ان خواہشوں میں نا مرا در ہیں گے اور نامرادی سے مریں گے۔اور بہتیرے ان میں سے ہمارے دیکھتے دیکھتے مر گئے اور قبروں میں حسرت لے گئے مگر خدا تمام میری مرادیں پوری کرے گا یہ نادان نہیں جانتے کہ جب میں اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے اس جنگ میں مشغول ہوں تو میں کیوں ضائع ہونے لگا اور کون ہے جو مجھے نقصان پہنچا سکے۔یہ بھی ظاہر ہے کہ جب کوئی کسی کا ہو جاتا ہے تو اس کو بھی اس کا ہونا ہی پڑتا ہے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۰۵) چونکہ خدائے عز و جل نے متواتر وحی سے مجھے خبر دی ہے کہ میرا زمانہ وفات نزدیک ہے۔اور اس بارے میں اس کی وحی اس قدر تواتر سے ہوئی کہ میری ہستی کو بنیاد سے ہلا دیا اور زندگی کو میرے پر سرد کر دیا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اپنے دوستوں اور ان تمام لوگوں کے لئے جو میرے کلام سے فائدہ اٹھانا چاہیں چند نصائح لکھوں۔سو پہلے میں اس مقدس وحی سے اطلاع دیتا ہوں جس نے مجھے میری موت کی خبر دے کر میرے لئے یہ تحریک پیدا کی۔اور وہ یہ ہے جو عربی زبان میں ہوئی اور بعد میں اردو کی وحی بھی لکھی جائے گی۔قَرُبَ اَجَلُكَ الْمُقَدَّرُ وَلَا تُبْقِى لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا قَلَّ مِيْعَادُ رَبِّكَ وَلَا نُبُقِي لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ شَيْئًا۔وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ۔تَمُوتُ وَ أَنَا رَاضِ مِنكَ۔جَاءَ وَقْتُكَ وَ نُقِی لَكَ الْآيَاتِ بَاهِرَاتٍ جَآءَ وَقْتُكَ وَنُبْقِی لَكَ الْآيَاتِ بَيِّنَاتٍ۔قَرُبَ مَا تُوعَدُونَ۔وَ أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِتْ۔إِنَّهُ مَنْ يُتَّقِ اللَّهَ وَيَصْبِر فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ۔