حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 617
۱۲۹۹ کہ میں منزل مقصود تک پہنچ گیا۔اس سے زیادہ کوئی بدذاتی نہیں ہوگی کہ میں یہ کہوں کہ وہ خدا کا کلام نہیں۔میں اُسی طرح اس کو خدا کا کلام جانتا ہوں جس طرح میں یقین رکھتا ہوں کہ میں زبان سے بولتا ہوں اور کانوں سے سنتا ہوں اور میں کیونکر اس سے انکار کروں۔اُس نے تو مجھے خدا دکھلایا اور چشمہ شیریں کی طرح معارف کا پانی مجھے پلاتا رہا اور ایک ٹھنڈی ہوا کی طرح ہر ایک جبس کے وقت میں مجھے راحت بخش ہوا۔وہ ان زبانوں میں بھی مجھ پر نازل ہوا جن زبانوں کو میں نہیں جانتا تھا۔جیسا کہ زبان انگریزی اور سنسکرت اور عبرانی۔اُس نے بڑی بڑی پیشگوئیوں اور عظیم الشان نشانوں سے ثابت کر دیا کہ وہ خدا کا کلام ہے اور اس نے حقائق و معارف کا ایک خزانہ میرے پر کھول دیا جس سے میں اور میری تمام قوم بے خبر تھی۔کیا یہ باتیں پھینک دینے کے لائق ہیں کہ ایک کلام جس نے معجزہ کی طاقت دکھلائی۔اور اپنی قوی کشش ثابت کی اور غیب کے بیان کرنے میں وہ بخیل نہیں نکلا بلکہ ہزار ہا امور غیبیہ اس نے ظاہر کئے اور ایک باطنی کمند سے مجھے اپنی طرف کھینچا اور ایک کمند دنیا کے سعید دلوں پر ڈالا اور میری طرف ان کو لایا اور ان کو آنکھیں دیں جن سے وہ دیکھنے لگے اور کان دیئے جن سے وہ سننے لگے اور صدق و ثبات بخشا جس سے وہ اس راہ میں قربانی ہونے کے لئے موجود ہو گئے تو کیا یہ تمام کاروبار شیطانی یا وسوسہ نفسانی ہے۔کیا شیطان خدا کے برابر ہو سکتا ہے؟ تو پھر کیوں وہ تمہاری مدد نہیں کرتا ؟ سنو ! وہ جس نے یہ کلام نازل کیا وہ کیا کہتا ہے۔اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔سو ضرور ہے کہ یہ زمانہ گذر نہ جائے اور ہم اس دنیا سے کوچ نہ کریں جب تک خدا کے وہ تمام وعدے پورے نہ ہوں۔(نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۶۳ تا ۴۶۷) میں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ میں سچ پر ہوں اور خدائے تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے اور جہاں تک میں دور بین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کی تحت اقدام دیکھتا ہوں اور قریب ہے کہ میں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے۔اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں