حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 616 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 616

۱۲۹۸۔اس کے ساتھ ذرہ ذرہ وجود پر تصرف کرنے والے ملائک ہوتے ہیں اور علاوہ اس کے اس کے ساتھ خدائی صفات کے اور بہت سے خوارق ہوتے ہیں اس لئے ممکن ہی نہیں ہوتا کہ ایسی وحی کے مورد کے دل میں شبہ پیدا ہو سکے بلکہ وہ شبہ کو کفر سمجھتا ہے اور اگر اس کو کوئی اور معجزہ نہ دیا جاوے تو وہ اس وحی کو جو ان صفات پر مشتمل ہے بجائے خود ایک معجزہ قرار دیتا ہے۔ایسی وحی جس شخص پر نازل ہوتی ہے اس شخص کو خدا کی راہ میں اور خدا کی محبت میں ایسے عاشق زار کی طرح بنا دیتی ہے جو اپنے تئیں صدق و ثبات کے کمال کی وجہ سے دیوانہ کی طرح بنا دیتا ہے۔اس کا یقین اس کے دل کو شہنشاہ کر دیتا ہے وہ میدان کا بہادر اور استغناء کے تخت کا مالک بن جاتا ہے۔یہی میرا حال ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔قبل اس کے جو میں معجزات دیکھوں۔اور آسمانی تائیدوں کا مشاہدہ کروں میں اس کی کلام سے ہی اُس کی طرف ایسا کھینچا گیا کہ کچھ انکل نہیں آتی کہ مجھے کیا ہو گیا۔تیز تلواریں میرے اس پیوند کو چھڑا نہیں سکتیں۔کوئی آگ مجھے ڈرا نہیں سکتی۔وہ کشش جس نے میرے دل پر کام کیا وہ دلائل سے باہر ہے اور بیان سے بلند تر اور براہین سے بالاتر۔ابتداء میں کلام تھا اس کلام نے جو کچھ کیا سو کیا۔وہ خدا جو نہاں در نہاں ہے اس نے میری روح پر ابتداء میں محض کلام کے ساتھ تحجتی کی اور اپنے مکالمات کا دروازہ میرے پر کھولا۔پس وہی ایک بات تھی جو بالخصوص میرے لئے کافی کشش ہوئی اور حضرت احدیت کے طرف مجھے کھینچ کر لے گئی اور یہ کہ کلام کی طاقت نے میرے دل پر کیا کیا اثر ڈالے اور مجھے کہاں تک پہنچا دیا۔اور کیا کیا تبدیلیاں کیں اور کیا میرے دل میں سے لے لیا اور کیا دے دیا۔ان باتوں کو میں کن لفظوں میں ادا کروں اور کس پیرایہ میں دلوں پر بٹھا دوں۔جن خارق عادت عنایات کے ساتھ وہ مجھ سے نزدیک ہوا کوئی نہیں جانتا مگر میں۔اور جس محبت کے مقام پر میرا قدم ہے کوئی نہیں جانتا مگر وہ۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ابتداء اس ترقی اور تعلق کا خدا کا کلام ہے جس کی ناگہانی کشش نے مجھے ایسا اٹھا لیا جیسا کہ ایک زبر دست بگولا ایک تنکے کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ پھینک دیتا ہے۔۔خدا کا کلام جو میرے پر نازل ہوا اور ہوتا ہے وہ میری روحانی والدہ ہے جس سے میں پیدا ہوا۔اُس نے مجھے ایک وجود بخشا ہے جو پہلے نہ تھا اور ایک رُوح عطا کی ہے جو پہلے نہ تھی۔میں نے ایک بچے کی طرح اس کی گود میں پرورش پائی اور اس نے مجھے ہر ایک ٹھوکر سے سنبھالا۔اور ہر ایک گرنے کی جگہ سے بچالیا۔وہ کلام ایک شمع کی طرح میرے آگے آگے چلا یہاں تک