حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 58
۷۴۰ سے وہ آگ ہمیشہ افروختہ رہتی ہے دو چیزیں ہیں۔ایک وہ انسان جو حقیقی خدا کو چھوڑ کر اور اور چیزوں کی پرستش کرتے ہیں یا اُن کی مرضی سے اُن کی پرستش کی جاتی ہے۔جیسا کہ فرمایا إِنَّكُمْ وَمَا إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ یا یعنی تم اور تمہارے باطل معبود جوانسان ہو کر خدا کہلاتے رہے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔(۲) دوسرا ایندھن جہنم کا بت ہیں۔مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں کا وجود نہ ہوتا تو جہنم بھی نہ ہوتا۔سو ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے پاک کلام میں بہشت اور دوزخ اس جسمانی دنیا کی طرح نہیں ہے بلکہ ان دونوں کا مبدء اور منبع روحانی امور ہیں۔ہاں وہ چیزیں دوسرے عالم میں جسمانی شکل پر نظر آئیں گی مگر اس جسمانی عالم سے نہیں ہوں گی۔اسلامی اصول کی فلاسفی - روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۸۵ تا ۳۹۳) جنت میں داخل ہونے کے لئے جسم ضروری ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ جسم عنصری ہو بلکہ ایسا جسم چاہئے جو عصری نہ ہو کیونکہ جنت کے پھل وغیرہ بھی عصری نہیں بلکہ وہ خلق جدید ہے اس لئے جسم بھی خلق جدید ہو گا جو پہلے جسم کے مغائر ہوگا۔مگر مومنوں کے لئے مرنے کے بعد جسم کا ملنا ضروری ہے اور اس پر نہ صرف جنتی کا لفظ دلالت کرتا ہے بلکہ معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کی صرف روحیں نہیں دیکھیں بلکہ سب کے جسم دیکھے اور حضرت عیسی کا جسم اُن سے الگ طور کا نہ تھا۔بلکہ کے ہم دیکھے سے الگ طورکا نہ تھا۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۸۷ حاشیہ) ہم نے عیسائیوں کی یہ غلطی بھی ظاہر کر دی ہے کہ ان کا یہ خیال کہ بہشت صرف ایک امر روحانی ہو گا ٹھیک نہیں ہے۔ہم ثابت کر چکے ہیں کہ انسان کی ایک ایسی فطرت ہے کہ اس کے روحانی قوی بوجہ اکمل و اتم صادر ہونے کے لئے ایک جسم کے محتاج ہیں۔مثلاً ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ سر کے کسی حصہ پر چوٹ لگنے سے قوت حافظہ جاتی رہتی ہے اور کسی حصہ کے صدمہ سے قوت متفکرہ رخصت ہوتی ہے اور منبت اعصاب میں خلل پیدا ہونے سے بہت سے روحانی قویٰ میں خلل پیدا ہو جاتا ہے پھر جبکہ رُوح کی یہ حالت ہے کہ وہ جسم کے ادنی خلل سے اپنے کمال سے فی الفور نقصان کی طرف عود کرتی ہے تو ہم کس طرح امید رکھیں کہ جسم کی پوری پوری جدائی سے وہ اپنی حالت پر قائم رہ سکے گی۔اس لئے اسلام میں یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی فلاسفی ہے کہ ہر ایک کو قبر میں ہی ایسا جسم مل جاتا ہے کہ جو لذت اور عذاب کے ادراک کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ہم ٹھیک ٹھیک نہیں کہہ سکتے کہ وہ جسم کس مادہ سے تیار ہوتا ہے کیونکہ یہ فانی جسم تو کالعدم ہو جاتا ہے اور نہ کوئی مشاہدہ کرتا ہے کہ در حقیقت یہی جسم قبر میں زندہ ہوتا ہے۔الانبياء: ٩٩