حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 608
۱۲۹۰ آثار نے ظاہر بھی کر دیا ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۷۸،۳۷۷) صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف کی شہادت بھی میری سچائی پر ایک نشان ہے۔کیونکہ جب سے خدا نے دنیا کی بنیا دڈالی ہے کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ کوئی شخص دیدہ و دانستہ ایک جھوٹے مکارمفتری کے لئے اپنی جان دے اور اپنی بیوی کو بیوہ ہونے کی مصیبت میں ڈالے اور اپنے بچوں کا یتیم ہونا پسند کرے اور اپنے لئے سنگساری کی موت قبول کرے۔یوں تو صد ہا آدمی ظلم کے طور پر قتل کئے جاتے ہیں مگر میں جو اس جگہ صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب کی شہادت کو ایک عظیم الشان نشان قرار دیتا ہوں وہ اس وجہ سے نہیں کہ ظلم سے قتل کئے گئے اور شہید کئے گئے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ شہید ہونے کے وقت انہوں نے وہ استقامت دکھائی کہ اس سے بڑھ کر کوئی کرامت نہیں ہو سکتی۔اُن کو تین مرتبہ امیر نے مختلف وقتوں میں نرمی سے سمجھایا کہ جو شخص قادیان میں مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے اس کی بیعت تو ڑ دو تو آپ کو چھوڑ دیا جائے گا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ آپ کی عزت ہو گی ورنہ سنگسار کئے جاؤ گے۔انہوں نے ہر ایک مرتبہ میں یہی جواب دیا کہ میں اہل علم ہوں اور زمانہ دیدہ ہوں۔میں نے بصیرت کی راہ سے بیعت کی ہے۔میں اس کو تمام دنیا سے بہتر سمجھتا ہوں۔اور کئی دن ان کو حراست میں رکھا گیا اور سخت دکھ دیا گیا اور ایک بھارا زنجیر ڈالا گیا جو سر سے پانو تک تھا اور بار بار سمجھایا اور ترک بیعت پر عزت افزائی کا وعدہ کیا کیونکہ ان کو ریاست کابل سے پرانے تعلقات تھے اور ریاست میں اُن کے حقوق خدمات تھے مگر انہوں نے بار بار کہا کہ میں دیوانہ نہیں۔میں نے حق پا لیا ہے۔میں نے بخوبی دیکھ لیا ہے کہ مسیح آنے والا یہی ہے جس کے ہاتھ پر میں نے بیعت کی ہے۔تب نومید ہو کر ناک میں اُن کے رسی ڈال کر پابہ زنجیر سنگساری کے میدان میں لے گئے اور سنگسار کرنے سے پہلے پھر امیر نے ان کو سمجھایا کہ اب بھی وقت ہے آپ بیعت توڑ دیں اور انکار کر دیں۔تب انہوں نے کہا کہ یہ ہرگز نہیں ہو گا۔اب میرا وقت قریب ہے۔میں دنیا کی زندگی کو دین پر ہرگز مقدم نہیں کروں گا۔کہتے ہیں کہ ان کی اس استقامت کو دیکھ کر صد با آدمیوں کے بدن پر لرزہ پڑ گیا اور ان کے دل کانپ اُٹھے کہ یہ کیسا مضبوط ایمان ہے ایسا ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔اور بہتوں نے کہا کہ اگر وہ شخص جس سے بیعت کی گئی ہے خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو صاحبزادہ عبداللطیف یہ استقامت ہرگز دکھلا نہ سکتا۔تب اس مظلوم کو پتھروں کے ساتھ شہید کیا گیا۔اور اُس نے آہ نہ کی۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۶۰،۳۵۹)