حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 607 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 607

۱۲۸۹ میرے پر ظاہر کیا کہ اب وہ ہلاک ہونے کو ہیں۔چنانچہ اکثر وہ الہام اخبار بدر اور الحکم میں بھی شائع ہو گئے۔تب بعد اس کے ان بدقسمتوں کی سزا کا وقت آ گیا۔اور یہ تین آدمی تھے۔ایک کا نام سومراج تھا دوسرے کا نام اچھر چند تھا تیسرے کا نام بھگت رام تھا۔پس خدا کے قہری طمانچہ نے تین دن کے اندر ہی ان کا کام تمام کر دیا اور تینوں طاعون کے شکار ہو گئے اور اُن کی بلا ان کی اولاد اور اہل وعیال پر بھی پڑی۔چنانچہ سومراج نہ مراجب تک اُس نے اپنی عزیز اولاد کی موت طاعون سے نہ دیکھ لی۔یہ ہے پاداش شرارتوں اور شوخیوں کی مگر ابھی میں نہیں باور کر سکتا کہ باقی ماندہ رفیق ان لوگوں کے جو قادیان میں موجود ہیں شرارتوں سے باز آ جائیں گے۔برگزیدہ نبیوں کی روحیں ان کی بدزبانی اور توہین کی وجہ سے اپنے خدائے قدیر کے آگے فریاد کر رہی ہیں پس وہ پاک روحیں بلاشبہ یہ عزت رکھتی ہیں کہ خدا کی غیرت اُن کے لئے بھڑ کے۔اس لئے یقیناً سمجھو کہ یہ قوم اپنے ہاتھ سے فنا کا بیج بورہی ہے۔یادر ہے کہ نا پاک طبع لوگ ہرگز سرسبز نہیں ہو سکتے اور جو درخت خشک بھی ہو اور پھر زہر یلا وہ کیوں کر محفوظ رکھنے کے لائق ٹھہر سکتا ہے بلکہ وہ سب سے پہلے کاٹا جائے گا۔تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۹۰ تا ۵۹۴) تخمیناً تیرہ برس ہوئے کہ جب مجھے سعد اللہ نو مسلم اودھانوی کی نسبت الہام ہوا تھا إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الابتر۔دیکھو انوار الاسلام در اشتہار انعامی دو ہزار روپیہ صفحہ۱۲۔اُس وقت ایک بیٹا سعد اللہ کا بعمر سولہ یا پندرہ برس کا موجود تھا۔بعد اس وحی کے باوجود گذر نے تیرہ برس کے ایک بچہ بھی اس کے گھر میں نہیں ہوا اور پہلالڑ کا اس کا بموجب الہام موصوف کے اس قابل نہیں کہ اس سے نسل جاری ہو سکے۔پس ابتر کی پیشگوئی کا ثبوت ظاہر ہے اور قطع نسل کی علامات موجود ہے۔لے (نوٹ برحاشیہ) اگر سعد اللہ کا پہلالڑ کا نامرد نہیں ہے جو الہام إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرِ سے پہلے پیدا ہو چکا تھا جس کی عمر تخمیناً تمیں برس کی ہے تو کیا وجہ کہ باوجود اس قدر عمر گذر نے اور استطاعت کے اب تک اس کی شادی نہیں ہوئی اور نہ اس کی شادی کا کچھ فکر ہے۔اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔سعد اللہ پر فرض ہے کہ اس پیشگوئی کی تکذیب کے لئے یا تو اپنے گھر اولاد پیدا کر کے دکھلاوے اور یا پہلے لڑکے کی شادی کر کے اور اولاد حاصل کرا کر اس کی مردی ثابت کرے اور یاد رکھے کہ ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات اس کو ہرگز حاصل نہیں ہو گی کیونکہ خدا کے کلام نے اس کا نام ابتر رکھا ہے اور ممکن نہیں کہ خدا کا کلام باطل ہو۔یقیناً وہ ابتر ہی مرے گا جیسا کہ