حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 606
۱۲۸۸ مخالف مولوی مرد میدان بن کر مباہلہ کے لئے حاضر نہ ہوئے مگر پس پشت گالیاں دیتے رہے اور تکذیب کرتے رہے۔چنانچہ ان میں سے رشید احمد گنگوہی نے صرف لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِین نہیں کہا بلکہ اپنے ایک اشتہار میں مجھے شیطان کے نام سے پکارا ہے۔آخر نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ تمام بالمقابل مولویوں میں سے جو باون تھے آج تک صرف ہیں زندہ ہیں اور وہ بھی کسی نہ کسی بلا میں گرفتار باقی سب فوت ہو گئے۔مولوی رشید احمد اندھا ہوا اور پھر سانپ کے کاٹنے سے مر گیا جیسا کہ مباہلہ کی دعا میں تھا۔مولوی شاہ دین دیوانہ ہو کر مر گیا۔مولوی غلام دستگیر خود اپنے مباہلہ سے مر گیا اور جو زندہ ہیں اُن میں سے کوئی بھی آفات متذکرہ بالا سے خالی نہیں حالانکہ ابھی انہوں نے مسنون طور پر مباہلہ نہیں کیا تھا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۱۳) قادیان کے آریوں نے محض مجھے دکھ دینے اور بد زبانی کرنے کے لئے ایک اخبار قادیان میں نکالا تھا جس کا نام شجھ چپتک رکھا تھا اور ایڈیٹر اور منتظم اس کے تین آدمی تھے۔ایک کا نام سومراج دوسرے کا نام اچھر چند تیسرے کا نام بھگت رام تھا۔ان تینوں کی موت سے خدا کے تین نشان ظاہر ہوئے۔یہ تینوں نہایت درجہ موذی اور ظالم تھے۔۔جس شخص نے ان کے اخبار شبھ چتک کے چند پرچے دیکھے ہوں گے وہ اس بات کا اقرار کرے گا کہ یہ تمام پرچے بدزبانی اور گند اور افترا سے بھرے ہوے ہیں۔میری نسبت لکھا ہے کہ یہ شخص خود پرست ہے نفس پرست ہے فاسق ہے فاجر ہے اس واسطے گندی اور ناپاک خواہیں اس کو آتی ہیں مرزا قادیانی بد اخلاق شہرت کا خواہان شکم پرور ہے۔کمبخت کمانے سے عار رکھنے والا مکر اور فریب اور جھوٹھ میں مشاق۔ہم ان کی چالاکیوں کو ضرور طشت از بام کریں گے اور ہمیں امید بھی ہے کہ ہم اپنے ارادہ میں ضرور کامیاب ہوں گے۔مرزا مکار اور جھوٹھ بولنے والا ہے۔ہوں مرزا کی جماعت کے لوگ بدچلن اور بدمعاش ہیں۔غرض ہر ایک پر چہ ان کا ناپاک گالیوں سے بھرا ہوا نکلتا رہا ہے۔میں نے کئی مرتبہ جناب الہی میں دعائیں کیں کہ خدا اس اخبار کے کارکنوں کو نابود کر کے اس فتنہ کو درمیان سے اٹھا دے چنانچہ کئی مرتبہ مجھے یہ خبر دی گئی کہ خدا تعالیٰ ان کی بیخ کنی کرے گا زیادہ تر میرے پر ناگوار یہ امر تھا کہ چونکہ یہ لوگ قادیان میں رہتے تھے اس لئے ان کے قرب مکانی کی وجہ سے ان کے جھوٹھ کو بطور سچ کے دیکھا جاتا تھا۔جب اخبار شجھ چٹک کے ایڈیٹر اور منتظم گالیاں دینے میں حد سے بڑھ گئے اور خدا نے