حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 57
فرماتا ہے۔۷۳۹ اذلِكَ خَيْرٌ نُزُ لَّا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُوْمِ۔إِنَّا جَعَلْنَهَا فِتْنَةٌ لِلظَّلِمِينَ إِنَّهَا شَجَرَةً تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ۔طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيْطِيْنِ إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُوْمِ۔طَعَامُ الْآثِيْمِ۔كَالْمُهْلِ يَغْلِى فِي الْبُطُونِ۔كَغَلِي الْحَمِيمِ۔ذق إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ یعنی تم بتلاؤ کہ بہشت کے باغ اچھے ہیں یا زقوم کا درخت جو ظالموں کے لئے ایک بلا ہے۔وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑھ میں سے نکلتا ہے یعنی تکبر اور خود بینی سے پیدا ہوتا ہے۔یہی دوزخ کی جڑھ ہے۔اس کا شگوفہ ایسا ہے جیسا کہ شیطان کا سر۔شیطان کے معنے ہیں ہلاک ہونے والا۔یہ لفظ شیط سے نکلا ہے۔پس حاصل کلام یہ ہے کہ اس کا کھانا ہلاک ہونا ہے اور پھر فرمایا کہ زقوم کا درخت اُن دوزخیوں کا کھانا ہے جو عمد ا گناہ کو اختیار کر لیتے ہیں۔وہ کھانا ایسا ہے جیسا کہ تانبا گلا ہوا کھولتے ہوئے پانی کی طرح پیٹ میں جوش مارنے والا۔پھر دوزخی کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اس درخت کو چکھ تو عزت والا اور بزرگ ہے یہ کلام نہایت غضب کا ہے۔اس کا ماحصل یہ ہے کہ اگر تو تکبر نہ کرتا اور اپنی بزرگی اور عزت کا پاس کر کے حق سے منہ نہ پھیرتا تو آج یہ تلخیاں تجھے اٹھائی نہ پڑتیں۔یہ آیت اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ دراصل یہ لفظ زقوم کا دق اور آم سے مرکب ہے اور ام إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيمُ کا لشخص ہے جس میں ایک حرف پہلے کا اور ایک حرف آخر کا موجود ہے اور کثرتِ استعمال نے ذال، زا کے ساتھ بدل دیا ہے۔اب حاصل کلام یہ ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا کے ایمانی کلمات کو بہشت کے ساتھ مشابہت دی ہے ایسا ہی اسی دنیا کے بے ایمانی کے کلمات کو زقوم کے ساتھ مشابہت دی اور اس کو دوزخ کا درخت ٹھہرایا اور ظاہر فرما دیا کہ بہشت اور دوزخ کی جڑھ اسی دنیا سے شروع ہوتی ہے جیسا کہ دوزخ کے باب میں ایک اور جگہ فرماتا ہے۔نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ یعنی دوزخ وہ آگ ہے جو خدا کا غضب اس کا منبع ہے اور گناہ سے بھڑکتی ہے اور پہلے دل پر غالب ہوتی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس آگ کی اصل جڑھ وہ غم اور حسرتیں اور درد ہیں جو دل کو پکڑتے ہیں کیونکہ تمام روحانی عذاب پہلے دل سے ہی شروع ہوتے ہیں اور پھر تمام بدن پر محیط ہو جاتے ہیں اور پھر ایک جگہ فرمایا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ کے یعنی جہنم کی آگ کا ایندھن جس الصفت: ۶۶۲۶۳ ۲ الدخان :۵۰۲۴۴ ۳ الهمزة: ۸،۷ البقرة: ۲۵