حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 56
۷۳۸ بتلاتی ہے کہ سچا اور پاک اور مستحکم اور کامل ایمان جو خدا اور اس کی ذات اور اس کی صفات اور اس کے ارادوں کے متعلق ہو وہ بہشت خوش نما اور بار آور درخت ہے اور اعمال صالحہ اس بہشت کی نہریں ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ۔تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَّ حِينٍ یعنی وہ ایمانی کلمہ جو ہر ایک افراط تفریط اور نقص اور خلل اور کذب اور ہنرل سے پاک اور من کل الوجوہ کامل ہو اس درخت کے ساتھ مشابہ ہے جو ہر ایک عیب سے پاک ہو جس کی جڑ زمین میں قائم اور شاخیں آسمان میں ہوں اور اپنے پھل کو ہمیشہ دیتا ہو۔اور کوئی وقت اس پر نہیں آتا کہ اس کی شاخوں میں پھل نہ ہوں۔اس بیان میں خدائے تعالیٰ نے ایمانی کلمہ کو ہمیشہ پھلدار درخت سے مشابہت دے کر تین علامتیں اس کی بیان فرمائیں۔(۱) اوّل یہ کہ جڑھ اس کی جو اصل مفہوم سے مُراد ہے انسان کے دل کی زمین میں ثابت ہو یعنی انسانی فطرت اور انسانی کانشنس نے اس کی حقانیت اور اصلیت کو قبول کر لیا ہو۔(۲) دوسری علامت یہ ہے کہ اس کلمہ کی شاخیں آسمان میں ہوں یعنی معقولیت اپنے ساتھ رکھتا ہو اور آسمانی قانون قدرت جو خدا کا فعل ہے اس فعل کے مطابق ہو۔مطلب یہ کہ اُس کی صحت اور اصلیت کے دلائل قانون قدرت سے مستنبط ہو سکتے ہوں اور نیز یہ کہ وہ دلائل ایسے اعلیٰ ہوں کہ گویا آسمان میں ہیں جن تک اعتراض کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا۔(۳) تیسری علامت یہ ہے کہ وہ پھل جو کھانے کے لائق ہے دائگی اور غیر منقطع ہو۔یعنی عملی مزاولت کے بعد اُس کی برکات و تاثیرات ہمیشہ اور ہر زمانہ میں مشہود اور محسوس ہوتی ہوں یہ نہیں کہ کسی خاص زمانہ تک ظاہر ہوکر پھر آگے بند ہو جائیں۔اور پھر فرمایا مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةِ اجْتَمَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارِ کے یعنی پلید کلمہ اس درخت کے ساتھ مشابہ ہے جو زمین میں سے اُکھڑا ہوا ہو یعنی فطرت انسانی اس کو قبول نہیں کرتی اور کسی طور سے وہ قرار نہیں پکڑتا۔نہ دلائل عقلیہ کی رو سے نہ قانون قدرت کی رو سے اور نہ کانشنس کی رو سے صرف قصہ اور کہانی کے رنگ میں ہوتا ہے اور جیسا کہ قرآن شریف نے عالم آخرت میں ایمان کے پاک درختوں کو انگور اور انار اور عمدہ عمدہ میووں سے مشابہت دی ہے اور بیان فرمایا ہے کہ اس روز وہ ان میووں کی صورت میں متمثل ہوں گے اور دکھائی دیں گے۔ایسا ہی بے ایمانی کے خبیث درخت کا نام عالم آخرت میں زقوم رکھا ہے۔جیسا کہ وہ ابراهیم: ۲۶،۲۵ ابراهیم: ۲۷