حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 603 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 603

۱۲۸۵ ہے۔اب اسی زمین پر امام الدین نے دیوار کھینچ دی ہے کہ یہ میری زمین ہے۔غرض نالش کے بعد ایک پرانی مسل کے ملاحظہ سے یہ ایسا عقدہ کا نیل ہمارے لئے پیش آ گیا تھا جس سے صریح معلوم ہوتا تھا کہ ہمارا دعوئی خارج کیا جائے گا کیونکہ جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے ایک پورانی مسل سے یہی ثابت ہوتا تھا کہ اس زمین پر قبضہ امام الدین کا ہے۔اس سخت مشکل کو دیکھ کر ہمارے وکیل خواجہ کمال الدین نے ہمیں یہ بھی صلاح دی تھی کہ بہتر ہو گا کہ اس مقدمہ میں صلح کی جائے۔یعنی امام الدین کو بطور خود کچھ روپیہ دے کر راضی کر لیا جائے۔لہذا میں نے مجبوراً اس تجویز کو پسند کر لیا تھا۔مگر وہ ایسا انسان نہیں تھا جو راضی ہوتا۔اس کو مجھ سے بلکہ دین اسلام سے ایک ذاتی بغض تھا اور اس کو پتہ لگ گیا تھا کہ مقدمہ چلانے کا ان پر قطعا دروازہ بند ہے۔لہذا وہ اپنی شوخی میں اور بھی بڑھ گیا۔آخر ہم نے اس بات کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیا۔مگر جہاں تک ہم نے اور ہمارے وکیل نے سوچا کوئی بھی صورت کامیابی کی نہیں تھی کیونکہ پورانی مسل سے امام الدین کا ہی قبضہ ثابت ہوتا تھا۔اور امام الدین کی یہاں تک بدنیت تھی کہ ہمارے گھر کے آگے جو صحن تھا جس میں آکر ہماری جماعت کے یکے ٹھہرتے تھے وہاں ہر وقت مزاحمت کرتا اور گالیاں نکالتا تھا۔اور نہ صرف اسی قدر بلکہ اس نے یہ بھی ارادہ کیا تھا کہ ہمارا مقدمہ خارج ہونے کے بعد ایک لمبی دیوار ہمارے گھر کے دروازوں کے آگے کھینچ دے تا ہم قیدیوں کی طرح محاصرہ میں آجائیں اور گھر سے باہر نکل نہ سکیں۔اور نہ باہر جاسکیں۔یہ دن بڑی تشویش کے تھے یہاں تک کہ ہم ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ کا مصداق ہو گئے اور بیٹھے بیٹھے ایک مصیبت پیش آگئی۔اس لئے جناب الہی میں دُعا کی گئی اور اس سے مدد مانگی گئی۔تب بعد دُعا مندرجہ ذیل الہام ہوا اور یہ الہام علیحدہ علیحدہ وقت کے نہیں بلکہ ایک ہی دفعہ ایک ہی وقت میں ہوا۔مجھے یاد ہے کہ اس وقت سید فضل شاہ صاحب لاہوری برادر سید ناصر شاہ صاحب او در سیر متعین بارہ مولا کشمیر میرے پیر دبارہا تھا اور دو پہر کا وقت تھا کہ یہ سلسلہ الہام دیوار کے مقدمہ کی نسبت شروع ہوا۔میں نے سید صاحب کو کہا کہ یہ دیوار کے مقدمہ کی نسبت الہام ہے آپ جیسا جیسا یہ الہام ہوتا جائے لکھتے جائیں۔چنانچہ انہوں نے قلم دوات اور کاغذ لے لیا۔پس ایسا ہوا کہ ہر ایک دفعہ غنودگی کی حالت طاری ہو کر ایک ایک فقرہ وحی الہی کا جیسا کہ سنت اللہ ہے زبان پر نازل ہوتا تھا اور جب ایک فقرہ ختم ہو جاتا تھا اور لکھا جاتا تھا تو پھر غنودگی آتی تھی اور دوسرا فقرہ وحی الہی کا زبان پر جاری ہوتا تھا۔یہاں تک کہ کل وحی الہی نازل ہو کر سید فضل شاہ صاحب لاہوری کی قلم سے لکھی گئی اور اس میں تفہیم ہوئی کہ یہ اس