حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 602 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 602

۱۲۸۴ چونکہ نواب صدیق حسن خان کے دل میں خشک وہابیت کا خمیر تھا اس لئے انہوں نے غیر قوموں کو صرف مہدی کی تلوار سے ڈرایا اور آخر پکڑے گئے۔اور نواب ہونے سے معطل کئے گئے۔اور بڑی انکسار سے میری طرف خط لکھا کہ میں اُن کے لئے دعا کروں۔تب میں نے اس کو قابلِ رحم سمجھ کر اس کے لئے دُعا کی تو خدا تعالیٰ نے مجھ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ سرکوبی سے اُس کی عزت بچائی گئی۔“ میں نے یہ اطلاع بذریعہ خط اُن کو دے دی اور کئی اور لوگوں کو بھی جو ان دنوں میں مخالف تھے یہی اطلاع دی۔چنانچہ منجملہ ان کے حافظ محمد یوسف ضلع دار نہر حال پیشتر ساکن امرتسر اور مولوی محمد حسین بٹالوی ہیں۔آخر کچھ مدت کے بعد اُن کی نسبت گورنمنٹ کا حکم آگیا کہ صدیق حسن خان کی نسبت نواب کا خطاب قائم رہے۔گویا یہ سمجھا گیا کہ جو کچھ اس نے بیان کیا ایک مذہبی پورا نا خیال ہے جو ان کے دل میں تھا بغاوت کی نیت نہیں تھی۔لے نوٹ بر حاشیہ ) نواب صدیق حسن خان پر جو یہ ابتلا پیش آیا وہ بھی میری ایک پیشگوئی کا نتیجہ ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔انہوں نے میری کتاب براہین احمدیہ کو چاک کر کے واپس بھیج دیا تھا۔میں نے دعا کی تھی کہ ان کی عزت چاک کر دی جائے۔سوایسا ہی ظہور میں آیا۔( تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۶۷ تا ۴۷۰) ۱۹۰۰ء میں ایسا اتفاق ہوا کہ میرے چچا زاد بھائیوں میں سے امام الدین نام ایک سخت مخالف تھا۔اُس نے یہ ایک فتنہ برپا کیا کہ ہمارے گھر کے آگے ایک دیوار کھینچ دی اور ایسے موقع پر دیوار کھینچی کہ مسجد میں آنے جانے کا راستہ رک گیا۔اور جو مہمان میری نشست کی جگہ پر میرے پاس آتے تھے یا مسجد میں آتے تھے وہ بھی آنے سے رُک گئے اور مجھے اور میری جماعت کو سخت تکلیف پہنچی گویا ہم محاصرہ میں آگئے۔ناچار دیوانی میں منشی خدا بخش صاحب ڈسٹرکٹ حج کے محکمہ میں نالش کی گئی۔جب نالش ہو چکی تو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ مقدمہ نا قابل فتح ہے اور اس میں یہ مشکلات ہیں کہ جس زمین پر دیوار کھینچی گئی ہے اس کی نسبت کسی پہلے وقت کی مسل کے رو سے ثابت ہوتا ہے کہ مدعا علیہ یعنی امام الدین قدیم سے اس کا قابض ہے اور یہ زمین دراصل کسی اور شریک کی تھی جس کا نام غلام جیلانی تھا اور اس کے قبضہ میں سے نکل گئی تھی۔تب اس نے امام الدین کو اس زمین کا قابض خیال کر کے گورداسپور میں بصیغۂ دیوانی نالش کی تھی اور بوجہ ثبوت مخالفانہ قبضہ کے وہ نالش خارج ہو گئی تھی تب سے امام الدین کا اُس پر قبضہ چلا آتا