حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 601 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 601

۱۲۸۳ ہے۔ ابھی دو چار دن ہوئے ہیں کثرت پیشاب اور اسہال کی وجہ سے میں مضحل ہو گیا تھا۔ میں نے دُعا کی تو الہام ہوا۔ دُعَاءُ كَ مُسْتَجَابٌ ۔ اس کے بعد ہی دیکھا کہ وہ شکایت جاتی رہی ۔ خدا ایک ایسا ۔ نسخہ ہے جو سارے نسخوں ۔ ں سے بہتر ہے اور چھپانے کے قابل ہے مگر پھر دیکھتا ہوں کہ یہ بخل ہے اس لئے ا ظاہر کرنا پڑتا ہے۔ الحکم جلد نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحہ ۶ - تذکره صفحه ۳۸۵ مطبوعہ ۲۰۰۴ء ) ایک دفعہ قادیان کا ایک آریہ جو سر گرم آریہ ہے ملا وامل نام مرض دق میں مبتلا ہو گیا اور تپ پیچھا نہیں چھوڑتا تھا اور آثار نو میدی ظاہر ہوتے جاتے تھے۔ چنانچہ وہ ایک دن میرے پاس آ کر علاج کا طلبگار ہوا اور پھر اپنی زندگی سے نومید ہو کر بے قراری سے رویا اور میں نے اس کے حق میں دعا کی ۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا۔ قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَامًا یعنی ہم نے کہا کہ اے تپ کی آگ سرد اور سلامتی ہو جا۔ چنانچہ بعد اس کے اسی ہفتہ میں وہ ہندو اچھا ہو گیا اور اب تک زندہ موجود ہے۔ (نزول المسيح - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۳۸) میاں عبداللہ سنوری جو علاقہ پٹیالہ میں پٹواری ہیں ایک مرتبہ ان کو ایک کام پیش آیا جس کے ہونے کے لئے انہوں نے ہر طرح سے کوشش کی اور بعض وجوہ سے ان کو اس کام کے ہو جانے کی امید بھی ہو گئی تھی۔ پھر انہوں نے دعا کے لئے ہماری طرف التجا کی۔ ہم نے جب دعا کی تو بلا توقف الہام ہوا۔ ”اے بسا آرزو کہ خاک شدہ تب میں نے ان کو کہہ دیا کہ یہ کام ہرگز نہیں ہوگا اور وہ الہام سنا دیا اور آخر کار ایسا ظہور میں آیا اور کچھ ایسے موانع پیش آئے کہ وہ کام ہوتا ہوتا رہ گیا۔ (نزول المسيح - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۱۲ ) منجملہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کے جو میری تائید میں ظاہر ہوئے نواب صدیق حسن خان وزیر ریاست بھو پال کے بارہ میں نشان ہے اور وہ یہ ہے کہ نواب صدیق حسن خان نے بعض اپنی کتابوں میں لکھا تھا کہ جب مہدی معہود پیدا ہوگا تو غیر مذاہب کے سلاطین گرفتار کر کے اس کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور یہ ذکر کرتے کرتے یہ بھی بیان کر دیا کہ چونکہ اس ملک میں سلطنت برطانیہ ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کے ظہور کے وقت اس ملک کا عیسائی بادشاہ اسی طرح مہدی کے روبرو پیش کیا جائے گا۔ یہ الفاظ تھے جو اونہوں نے اپنی کتاب میں شائع کئے تھے جو اب تک ان کی کتابوں میں موجود ہیں اور یہی موجب بغاوت سمجھے گئے ۔