حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 595 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 595

۱۲۷۷ بشیر نے آنکھیں کھول دیں۔ تب اُسی دن خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے اُس کی آنکھیں اچھی ہو گئیں۔ اور ایک مرتبہ میں خود بیمار ہو گیا۔ یہاں تک کہ قرب اجل سمجھ کر تین مرتبہ مجھے سورة يس سُنائی گئی۔ مگر خدا تعالیٰ نے میری دُعا کو قبول فرما کر بغیر ذریعہ کسی دوا کے مجھے شفا بخشی ۔ اور جب میں صبح اٹھا تو بالکل شفا تھی اور ساتھ ہی یہ وحی الہی ہوئی وَ اِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِشِفَاءٍ مِّنْ مثلہ یعنی اگر تم اس رحمت کے بارے میں شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر نازل کی تو اس شفاء کی کوئی نظیر پیش کرو۔ اسی طرح بہت سی ایسی صورتیں پیش آئیں جو محض دعا اور توجہ سے خدا تعالیٰ نے بیماروں کو اچھا کر دیا جن کا شمار کرنا مشکل ہے۔ ابھی ۸ جولائی ۱۹۰۶ء کے دن سے جو پہلی رات تھی میرا لڑکا مبارک احمد خسرہ کی بیماری سے سخت گھبراہٹ اور اضطراب میں تھا۔ ایک رات تو شام سے صبح تک تڑپ تڑپ کر اُس نے بسر کی اور ایک دم نیند نہ آئی اور دوسری رات میں اس سے سخت تر آثار ظاہر ہوئے اور بے ہوشی میں اپنی بوٹیاں توڑتا تھا اور ہذیان کرتا تھا اور ایک سخت خارش بدن میں تھی ۔ اس وقت میرا دل دردمند ہوا اور الہام ہوا ۔ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ تب معادعا کے ساتھ مجھے کشفی حالت میں معلوم ہوا کہ اس کے بستر پر چوہوں کی شکل پر بہت سے جانور پڑے ہیں اور وہ اس کو کاٹ رہے ہیں اور ایک شخص اٹھا اور اُس نے تمام وہ جانور اکٹھے کر کے ایک چادر میں باندھ دیئے اور کہا کہ اس کو باہر پھینک آؤ اور پھر وہ کشفی حالت جاتی رہی اور میں نہیں جانتا کہ پہلے وہ کشفی حالت دور ہوئی یا پہلے مرض دور ہو گئی ۔ اور لڑکا آرام سے فجر تک سویا رہا۔ اور چونکہ خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے یہ خاص معجزہ مجھ کو عطا فرمایا ہے اس لئے میں یقیناً کہتا ہوں کہ اس معجزہ شفاء الامراض کے بارے میں کوئی شخص روئے زمین پر میرا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اگر مقابلہ کا ارادہ کرے تو خدا اس کو شرمندہ کرے گا۔ (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۸۶ تا ۹۱ حاشیه ) میں نے کئی دفعہ ایسی منذر خواہیں دیکھیں جن میں صریح طور پر یہ بتلایا گیا تھا کہ میر ناصر نواب جو میرے خسر ہیں ان کے عیال کے متعلق کوئی مصیبت آنے والی ہے۔ غرض جب اس قدر مجھے الہام ہوئے جن سے یقیناً میرے پر کھل گیا کہ میر صاحب کے عیال پر کوئی مصیبت در پیش ہے تو میں دعا میں لگ گیا۔ اور وہ اتفاقاً مع اپنے بیٹے اسحاق اور اپنے گھر کے لوگوں کے لاہور جانے کو تھے۔ میں نے ان کو یہ خواہیں سُنا دیں اور لاہور جانے سے روک دیا۔ اور انہوں نے کہا کہ میں آپ کی اجازت کے بغیر ہرگز نہیں جاؤں گا ۔ جب دوسرے دن کی صبح ہوئی تو میر صاحب کے بیٹے اسحاق کو تیز تپ چڑھ