حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 584
ہند و خیانت سے غبن کر کے اُن کو ایسا صدمہ اور ہم و غم پہنچا گیا جس سے ان کی تمام اندرونی طاقتیں اور قو تیں یکدفعہ سلب ہوگئیں اور جلد انہوں نے راہ عدم دیکھا۔( نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۵۶۹) خداوند علیم وخبیر سے خبر پا کر میں نے اپنے اشتہار ۱۲ مارچ ۱۸۹۷ء میں اس امر کو ظاہر کر دیا تھا کہ اب سید احمد خان صاحب کے سی ایس آئی کی موت کا وقت قریب ہے۔افسوس ہے کہ ایک نظر دیکھنا بھی نصیب نہ ہوا۔سید صاحب غور سے پڑھیں کہ اب ملاقات کے عوض میں یہی اشتہار ہے۔چنانچہ اس اشتہار کے ایک سال بعد سید صاحب وفات پاگئے۔نزول مسیح - روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۵۷۰،۵۲۹) مرزا اعظم بیگ سابق اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر نے ہمارے بعض بے دخل شرکاء کی طرف سے ہماری جائیداد کی ملکیت میں حصہ دار بننے کے لئے ہم پر نالش دائر کی اور ہمارے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم اپنی فتحیابی کا یقین رکھ کر جواب دہی میں مصروف ہوئے۔میں نے جب اس بارہ میں دُعا کی تو خدائے علیم کی طرف سے مجھے الہام ہوا کہ اُجِيْبُ كُلَّ دُعَائِكَ إِلَّا فِي شُرَكَائِكَ پس میں نے سب عزیزوں کو جمع کر کے کھول کر سُنا دیا کہ خدائے علیم نے مجھے خبر دی ہے کہ تم اس مقدمہ میں ہرگز فتحیاب نہ ہو گے اس لئے اس سے دستبردار ہو جانا چاہئے۔لیکن انہوں نے ظاہری وجوہات اور اسباب پر نظر کر کے اپنی فتحیابی کو تین خیال کر کے میری بات کی قدر نہ کی اور مقدمہ کی پیروی شروع کر دی اور عدالت ماتحت میں میرے بھائی کو فتح بھی ہو گئی۔لیکن خدائے عالم الغیب کی وحی کے برخلاف کس طرح ہو سکتا تھا۔بالآخر چیف کورٹ میں میرے بھائی کو شکست ہوئی اور اس طرح اس الہام کی صداقت سب پر ظاہر ہوگئی۔( نزول مسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۹۱،۵۹۰) ایسا اتفاق دو ہزار مرتبہ سے بھی زیادہ گذرا ہے کہ خدا تعالیٰ نے میری حاجت کے وقت مجھے اپنے الہام یا کشف سے یہ خبر دی کہ عنقریب کچھ روپیہ آنے والا ہے اور بعض وقت آنے والے روپیہ کی تعداد سے بھی خبر دے دی۔اور بعض وقت یہ خبر دی کہ اس قدر روپیہ فلاں تاریخ میں اور فلاں شخص کے بھیجنے سے آنے والا ہے اور ایسا ہی ظہور میں آیا اور اس بات کے گواہ بھی بعض قادیان کے ہندو اور کئی سو مسلمان ہوں گے جو حلفاً بیان کر سکتے ہیں۔اور اس قسم کے نشان دو ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہیں اور یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کیونکر خدا تعالیٰ حاجات کے وقت میں میرا متولی اور متکفل ہوتا رہا ہے۔اور