حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 582 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 582

۱۲۶۴ گذاری کا خط لکھا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۹۳-۳۹۴) بعض نشان اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان کے وقوع میں ایک منٹ کی تاخیر بھی نہیں ہوتی کہ فی الفور واقع ہو جاتے ہیں اور ان میں گواہ کا پیدا ہونا کم میسر آتا ہے۔اسی قسم کا یہ ایک نشان ہے کہ ایک دن بعد نماز صبح میرے پر کشفی حالت طاری ہوئی اور میں نے اس وقت اس کشفی حالت میں دیکھا کہ میرا لڑکا مبارک احمد باہر سے آیا ہے اور میرے قریب جو ایک چٹائی پڑتی ہوئی تھی اس کے ساتھ پیر پھسل کر گر پڑا ہے اور اس کو بہت چوٹ لگی ہے اور تمام گر تہ خون سے بھر گیا ہے۔میں نے اس وقت مبارک احمد کی والدہ کے پاس جو اس وقت میرے پاس کھڑی تھیں یہ کشف بیان کیا تو ابھی میں بیان ہی کر چکا تھا کہ مبارک احمد ایک طرف سے دوڑا آیا جب چٹائی کے پاس پہنچا تو چٹائی سے پیر پھسل کر گر پڑا اور سخت چوٹ آئی اور تمام گر تہ خون سے بھر گیا۔اور ایک منٹ کے اندر ہی یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ایک نادان کہے گا کہ اپنی بیوی کی گواہی کا کیا اعتبار ہے اور نہیں جانتا کہ ہر ایک شخص طبعاً اپنے ایمان کی حفاظت کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر پھر جھوٹ بولے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۹۹،۳۹۸) شیخ حامد علی ساکن تصہ غلام نبی ضلع گورداسپورہ جو ایک مدت تک میرے پاس رہا ہے اور بہت سے نشانوں کا گواہ ہے ایک یہ نشان اس کے روبر و ظہور میں آیا کہ ظہر کی نماز کا وقت تھا کہ یکدفعہ مجھے الہام ہوا کہ تَرى فَخِذًا اَلِيماً یعنے تو ایک درد ناک ران دیکھے گا۔تب میں نے یہ الہام اس کو سنایا اور پھر بعد اس کے بلا توقف میں نماز کے لئے مسجد کی طرف روانہ ہونے لگا اور وہ بھی میرے ساتھ ہی زینہ پر سے اُترا۔جب ہم زینہ پر سے اُتر آئے۔تو دو گھوڑوں پر دولڑ کے سوار دکھائی دیئے جن کی عمر بیس برس کے اندر اندر ہوگی۔ایک کچھ چھوٹا اور ایک بڑا۔وہ سوار ہونے کی حالت میں ہی ہمارے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور ایک نے ان میں سے مجھ کو کہا کہ یہ دوسرا سوار میرا بھائی ہے اور اس کی ران میں سخت درد ہو رہا ہے اس کا کوئی علاج پوچھنے آئے ہیں۔تب میں نے حامد علی کو کہہ دیا کہ گواہ رہ کہ یہ پیشگوئی دو تین منٹ میں ہی پوری ہوگئی۔تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۹۶، ۱۹۷) جبکہ دلیپ سنگھ کی پنجاب میں آنے کی خبر مشہور تھی تب مجھے دکھلایا گیا کہ دلیپ سنگھ اپنے اس ارادہ میں ناکام رہے گا اور وہ ہرگز ہندوستان میں قدم نہیں رکھے گا۔چنانچہ میں نے اس کشف کو لالہ شرمیت ساکن قادیان کو جو آریہ ہے اور کئی ہندو مسلمانوں کو بتلا دیا اور ایک اشتہار بھی شائع کر دیا جو فروری