حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 581
۱۲۶۳ اٹھائیسویں تاریخ کو اور ایسا واقعہ ابتدائے دنیا سے کسی رسول یا نبی کے وقت میں کبھی ظہور میں نہیں آیا۔صرف مہدی معہود کے وقت اس کا ہونا مقدر ہے۔اب تمام انگریزی اور اردو اخبار اور جملہ ماہرین ہلیت اس بات کے گواہ ہیں کہ میرے زمانہ میں ہی جس کو عرصہ قریباً بارہ سال کا گذر چکا ہے اسی صفت کا چاند اور سورج کا گرہن رمضان کے مہینہ میں وقوع میں آیا ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۰۲) ۱۸۶۸ ء یا ۱۸۶۹ء میں بھی ایک عجیب الہام اردو میں ہوا تھا۔جس کو اسی جگہ لکھنا مناسب ہے۔اور تقریب اس الہام کی یہ پیش آئی تھی کہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کہ جو کسی زمانہ میں اس عاجز کے ہم مکتب بھی تھے جب نئے نئے مولوی ہو کر بٹالہ میں آئے اور بٹالیوں کو ان کے خیالات گراں گذرے تو تب ایک شخص نے مولوی صاحب ممدوح سے کسی اختلافی مسئلہ میں بحث کرنے کے لئے اس ناچیز کو بہت مجبور کیا چنانچہ اس کے کہنے کہانے سے یہ عاجز شام کے وقت اس شخص کے ہمراہ مولوی صاحب ممدوح کے مکان پر گیا اور مولوی صاحب کو معہ اُن کے والد صاحب کے مسجد میں پایا۔پھر خلاصہ یہ کہ اس احقر نے مولوی صاحب موصوف کی اس وقت کی تقریر کوسن کر معلوم کر لیا کہ ان کی تقریر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کہ قابل اعتراض ہو۔اس لئے خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اسے ترک بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ پھر بعد اس کے عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔چونکہ خالصا خدا اور اس کے رسول کے لئے انکسار اور تذلل اختیار کیا گیا اس لئے اس محسنِ مطلق نے نہ چاہا کہ اس کو بغیر اجر کے چھوڑے۔( براہین احمدیہ ہر چہار تحص۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۲۱ ۶۲۲ حاشیه در حاشیه نمبر۳) ایک دفعہ خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر ریاست پٹیالہ نے اپنے کسی اضطراب اور مشکل کے وقت میری طرف خط لکھا کہ میرے لئے دعا کریں۔چونکہ انہوں نے کئی دفعہ ہمارے سلسلہ میں خدمت کی تھی اس لئے اُن کے لئے دعا کی گئی۔تب من جانب اللہ الہام ہوا۔چل رہی ہے نسیم رحمت کی جو دعا کیجئے قبول ہے آج اس دعا کے بعد خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ مشکلات ان کے دُور کر دیئے۔اور انہوں نے شکر