حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 578
طرف سے یہ الہام ہوا۔وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ۔جس کے معنے مجھے یہ سمجھائے گئے کہ قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اس حادثہ کی کہ غروب آفتاب کے بعد پڑے گا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ پیشگوئی میرے والد کے متعلق ہے اور وہ آج ہی غروب آفتاب کے بعد وفات پائیں گے اور یہ قول خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور ماتم پرسی کے ہے۔اس وحی الہی کے ساتھ ہی میرے دل میں بمقتضائے بشریت یہ گذرا کہ ان کی وفات سے مجھے بڑا ابتلا ء پیش آئے گا۔کیونکہ جو وجوہ آمدنی ان کی ذات سے وابستہ ہیں وہ سب ضبط ہو جائیں گی اور زمینداری کا حصہ کثیرہ شرکاء لے جائیں گے اور پھر نہ معلوم ہمارے لئے کیا کیا مقدر ہے۔میں اس خیال میں ہی تھا کہ پھر یکدفعہ غنودگی آئی اور یہ الہام ہوا۔أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ۔یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں۔پھر اس کے بعد میرے دل میں سکینت نازل کی گئی۔اور نماز ظہر کے بعد میں نیچے اترا اور جون کا مہینہ اور سخت گرمی کے دن تھے۔اور میں نے جا کر دیکھا کہ میرے والد صاحب تندرست کی طرح بیٹھے تھے اور نشست برخاست اور حرکت میں کسی سہارے کے محتاج نہ تھے۔اور حیرت تھی کہ آج واقعہ وفات کیونکر پیش آئے گا۔لیکن جب غروب آفتاب کے قریب وہ پاخانہ میں جا کر واپس آئے تو آفتاب غروب ہو چکا تھا۔اور پلنگ پر بیٹھتے کے ساتھ ہی غرغرہ نزع شروع ہو گیا۔شروع غرغرہ میں مجھے انہوں نے کہا۔دیکھا یہ کیا حالت ہے اور پھر آپ ہی لیٹ گئے اور بعد اس کے کوئی کلام نہ کی اور چند منٹ میں ہی اس نا پائیدار دنیا سے گذر گئے۔آج تک جو دس اگست ۱۹۰۲ء ہے مرزا صاحب مرحوم کے انتقال کو اٹھائیس برس ہو چکے ہیں۔بعد اس کے میں نے مرزا صاحب کی تجہیز و تکفین سے فراغت کر کے وہ وحی الہی جو تکفل الہی کے بارے میں ہوئی تھی یعنی أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَۀ اس کو ایک نگینہ پر کھدوا کر وہ مُہر اپنے پاس رکھی اور مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ خارق عادت طور پر یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور نہ صرف میں بلکہ ہر یک شخص جو میرے اس زمانہ کا واقف ہے جبکہ میں اپنے والد صاحب کے زیر سایہ زندگی بسر کرتا تھا وہ گواہی دے سکتا ہے کہ مرزا صاحب مرحوم کے وقت میں کہ کوئی مجھے جانتا بھی نہیں تھا۔ان کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ نے اس طور سے میری دستگیری کی اور ایسا میرا متکفل ہوا کہ کسی شخص کے وہم اور خیال میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہونا ممکن ہے۔ہر یک پہلو سے وہ میرا ناصر اور معاون ہوا۔مجھے صرف اپنے دستر خوان اور روٹی کی فکر تھی مگر اب تک اس نے کئی لاکھ آدمی کو میرے دستر خوان پر روٹی کھلائی۔ڈاکخانہ والوں کو خود پوچھ لو کہ کس