حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 577 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 577

۱۲۵۹ قوت دی گئی۔اور نیز یہ الہام ہوا۔كَلامٌ أُفُصِحَتْ مِنْ لَّدُنُ رَبِّ كَرِيمٍ۔یعنی اس کلام میں خدا کی طرف سے فصاحت بخشی گئی ہے۔چنانچہ اس الہام کو اُسی وقت اخویم مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اور اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب اور مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ایم اے اور ماسٹر عبدالرحمن صاحب اور ماسٹر شیر علی صاحب بی اے اور حافظ عبدالعلی صاحب اور بہت سے دوستوں کو اطلاع دی گئی۔تب میں عید کی نماز کے بعد عید کا خطبہ عربی زبان میں پڑھنے کے لئے کھڑا ہو گیا۔اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ غیب سے مجھے ایک قوت دی گئی اور وہ فصیح تقریر عربی میں فی البدیہہ میرے منہ سے نکل رہی تھی کہ میری طاقت سے بالکل باہر تھی۔اور میں نہیں خیال کر سکتا کہ ایسی تقریر جس کی ضخامت کئی جزو تک تھی ایسی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ بغیر اس کے کہ اول کسی کاغذ میں قلمبند کی جائے کوئی شخص دنیا میں بغیر خاص الہام الہی کے بیان کر سکے۔جس وقت یہ عربی تقریر جس کا نام خطبہ الہامیہ رکھا گیا لوگوں میں سنائی گئی اس وقت حاضرین کی تعداد شاید دوسو کے قریب ہوگی سبحان اللہ۔اس وقت ایک غیبی چشمہ کھل رہا تھا۔مجھے معلوم نہیں کہ میں بول رہا تھا یا میری زبان سے کوئی فرشتہ کلام کر رہا تھا۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا خود بخود بنے بنائے فقرے میرے منہ سے نکلتے جاتے تھے اور ہر ایک فقرہ میرے لئے ایک نشان تھا۔چنانچہ تمام فقرات چھپے ہوئے موجود ہیں جن کا نام خطبات الہامیہ ہے۔اس کتاب کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ کیا کسی انسان کی طاقت میں ہے کہ اتنی لمبی تقریر بغیر سوچے اور فکر کے عربی زبان میں کھڑے ہو کر محض زبانی طور پر فی البدیہہ بیان کر سکے۔یہ ایک علمی معجزہ ہے جو خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۷۶،۳۷۵) متفرق نشانات میرے والد صاحب میرزا غلام مرتضیٰ مرحوم اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے۔گورنمنٹ انگریزی میں وہ پنشن پاتے تھے۔اور اس کے علاوہ چار سو روپیہ انعام ملتا تھا اور چار گاؤں زمینداری کے تھے۔پینشن اور انعام ان کی ذات تک وابستہ تھے اور زمینداری کے دیہات کے متعلق شرکاء کے مقدمات شروع ہونے کو تھے۔اتنے میں وہ قریباً پچاسی برس کی عمر میں بیمار ہو گئے اور پھر بیماری سے شفا بھی ہو گئی۔کچھ خفیف سی زحیر باقی تھی۔ہفتہ کا روز تھا اور دو پہر کا وقت تھا کہ مجھے کچھ غنودگی ہو کر خدا تعالیٰ کی