حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 54

کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے حاصل ہو جائے تو پھر دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ وہ ضعیف بیمار زنجیل کے شربت سے قوت پاتا ہے۔اور زنجیلی شربت خدا تعالیٰ کے حسن و جمال کی جاتی ہے جو روح کی غذا ہے۔جب اس تجلی سے انسان قوت پکڑتا ہے تو پھر بلند اور اونچی گھاٹیوں پر چڑھنے کے لائق ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ایسی حیرت ناک سختی کے کام دکھلاتا ہے کہ جب تک یہ عاشقانہ گرمی کسی کے دل میں نہ ہو ہرگز ایسے کام دکھلا نہیں سکتا۔سوخدا تعالیٰ نے اس جگہ ان دو حالتوں کے سمجھانے کے لئے عربی زبان کے دو لفظوں سے کام لیا ہے ایک کافور سے جو نیچے دبانے والے کو کہتے ہیں اور دوسرے زنجبیل سے جو اوپر چڑھنے والے کو کہتے ہیں اور اس راہ میں بھی دو حالتیں سالکوں کے لئے واقع ہیں۔باقی حصہ آیت کا یہ ہے۔اِنَّا اَعْتَدْنَا لِلْكُفِرِينَ سَلْسِلَا وَأَغْللًا وَسَعِيرًا لا یعنی ہم نے منکروں کے لئے جو سچائی کو قبول کرنا نہیں چاہتے زنجیر میں تیار کر دی ہیں اور طوق گردن اور ایک افروختہ آگ کی سوزش۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ سچے دل سے خدا تعالیٰ کو نہیں ڈھونڈتے اُن پر خدا کی طرف سے رجعت پڑتی ہے۔وہ دنیا کی گرفتاریوں میں ایسے مبتلا رہتے ہیں کہ گویا پا بہ زنجیر ہیں اور زمینی کاموں میں ایسے نگونسار ہوتے ہیں کہ گویا اُن کی گردن میں ایک طوق ہے جو ان کو آسمان کی طرف سر نہیں اُٹھانے دیتا اور اُن کے دلوں میں حرص و ہوا کی ایک سوزش لگی ہوئی ہوتی ہے کہ یہ مال حاصل ہو جائے اور یہ جائیدا دل جائے اور فلاں ملک ہمارے قبضہ میں آ جائے۔اور فلاں دشمن پر ہم فتح پا جائیں۔اس قدر روپیہ ہو۔اتنی دولت ہو۔سو چونکہ خدائے تعالیٰ ان کو نالائق دیکھتا ہے اور بُرے کاموں میں مشغول پاتا ہے اس لئے یہ تینوں بلائیں ان کو لگا دیتا ہے۔اور اس جگہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب انسان سے کوئی فعل صادر ہوتا ہے تو اُسی کے مطابق خدا بھی اپنی طرف سے ایک فعل صادر کرتا ہے۔مثلاً انسان جس وقت اپنی کو ٹھڑی کے تمام دروازوں کو بند کر دے تو انسان کے اس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل ہو گا کہ وہ اس کو ٹھڑی میں اندھیرا پیدا کر دے گا کیونکہ جو امور خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں ہمارے کاموں کے لئے بطور ایک نتیجہ لازمی کے مقدر ہو چکے ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کے فعل ہیں۔وجہ یہ کہ وہی علت العلل ہے۔ایسا ہی اگر مثلاً کوئی شخص زہر قاتل کھالے تو اُس کے اِس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل صادر ہو گا کہ اُسے ہلاک کر دے گا۔ایسا ہی اگر کوئی ایسا بے جافعل کرے جو کسی متعدی بیماری کا موجب ہو تو اس کے اس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل ہو گا کہ وہ متعدی بیماری الدهر : ۵