حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 53
۷۳۵ ہے کہ جو اس کی طرف کامل طور سے جھک گئے وہ نفسانی جذبات سے بہت ہی دُور نکل گئے ہیں اور ایسے خدا کی طرف جھک گئے ہیں کہ دنیا کی سرگرمیوں سے اُن کے دل ٹھنڈے ہو گئے اور اُن کے جذبات ایسے دب گئے جیسا کہ کا فورزہر یلے مادوں کو دبا دیتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ وہ لوگ اس کا فوری پیالہ کے بعد وہ پیالے پیتے ہیں جن کی ملونی بجھیل ہے۔اب جانتا چاہئے کہ زنجبیل دو لفظوں سے مرکب ہے یعنی زنا اور جَبَل سے اور زُنَا لغت عرب میں اوپر چڑھنے کو کہتے ہیں اور جبل پہاڑ کو۔اس کے ترکیبی معنے یہ ہیں کہ پہاڑ پر چڑھ گیا۔اب جاننا چاہئے کہ انسان پر ایک زہریلی بیماری کے فرو ہونے کے بعد اعلیٰ درجہ کی صحت تک دو حالتیں آتی ہیں۔ایک وہ حالت جبکہ زہریلے مواد کا جوش بکلّی جاتا رہتا ہے اور خطرناک مادوں کا جوش رو با صلاح ہو جاتا ہے اور ستمی کیفیات کا حملہ بخیر و عافیت گذر جاتا ہے اور ایک مہلک طوفان جو اُٹھا تھا نیچے دب جاتا ہے لیکن ہنوز اعضاء میں کمزوری باقی ہوتی ہے۔کوئی طاقت کا کام نہیں ہو سکتا۔ابھی مردہ کی طرح افتاں و خیزاں چلتا ہے اور دوسری وہ حالت ہے کہ جب اصلی صحت عود کر آتی اور بدن میں طاقت بھر جاتی ہے اور قوت کے بحال ہونے سے یہ حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے کہ بلا تکلف پہاڑ کے اوپر چڑھ جائے اور نشاط خاطر سے اونچی گھاٹیوں پر دوڑتا چلا جائے۔سوسلوک کے تیسرے مرتبہ میں یہ حالت میسر آتی ہے ایسی حالت کی نسبت اللہ تعالیٰ آیت موصوفہ میں اشارہ فرماتا ہے کہ انتہائی درجہ کے باخدا لوگ وہ پیالے پیتے ہیں جن میں زنجبیل ملی ہوئی ہے یعنی وہ روحانی حالت کی پوری قوت پا کر بڑی بڑی گھاٹیوں پر چڑھ جاتے ہیں اور بڑے مشکل کام اُن کے ہاتھ سے انجام پذیر ہوتے ہیں اور خدا کی راہ میں حیرت ناک جانفشانیاں دکھلاتے ہیں۔اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ علم طب کی رُو سے زنجبیل وہ دوا ہے جس کو ہندی میں سونٹھ کہتے ہیں۔وہ حرارت غریزی کو بہت قوت دیتی ہے دستوں کو بند کرتی ہے۔اور اس کا زنجبیل اسی واسطے نام رکھا گیا ہے کہ گویا وہ کمزور کو ایسا قوی کرتی ہے اور ایسی گرمی پہنچاتی ہے جس سے وہ پہاڑوں پر چڑھ سکے۔ان متقابل آیتوں کے پیش کرنے سے جن میں ایک جگہ کافور کا ذکر ہے اور ایک جگہ زنجبیل کا۔خدا تعالیٰ کی یہ غرض ہے کہ تا اپنے بندوں کو سمجھائے کہ جب انسان جذبات نفسانی سے نیکی کی طرف حرکت کرتا ہے تو پہلے پہل اس حرکت کے بعد یہ حالت پیدا ہوتی ہے کہ اُس کے زہریلے مواد نیچے دبائے جاتے ہیں اور نفسانی جذبات کو بھی ہونے لگتے ہیں۔جیسا کہ کافور زہریلے مواد کو دبا لیتا ہے۔اسی لئے وہ ہیضہ اور محرقہ تہوں میں مفید ہے۔اور پھر جب زہریلے مواد کا جوش بالکل جاتا رہے اور ایک کمزور صحت جو ضعف